مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس ، نواز شریف پر مکمل اظہار اعتماد کی قرارداد منظور
اسلام آباد( آن لائن ) مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس ، نواز شریف پر مکمل اظہار اعتماد کی قرارداد منظور،نواز شریف نے با ضابطہ طور پر مسلم لیگ( ن) کی طرف سے میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم، سردار ایاز صادق کو سپیکر قومی اسمبلی کے لیے نامزد کر دیا،اجلاس نواز شریف اورشہباز شریف کے پرتپاک استقبال ،ہال تالیوں سے گونج اٹھا،قیادت کو شاندار خراج تحسین،نواز شریف نے وزیر اعظم کے لئے شہباز شریف کا نام سامنے رکھا ،پارلیمانی پارٹی نے فیصلے کی توثیق کر دی، پارلیمانی پارٹی میں دو قراردادیں منظوری کے لئے پیش کی گئی تھیں۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ منتخب ہونے والے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد دیتا ہوں، ہمارے ارکان بھر پور مقابلے کے بعد ایوان میں پہنچے ہیں۔ہمارا پہلا دور بھی اچھا تھا، بڑے منصوبے شروع کیے، دوسرے دور میں دو تہائی اکثریت سے جیت کر آئے تھے، تیسرے دور کے بعد ہماری پارٹی پر ظلم ہوئے جب کہ ہمارے تینوں ادوار بہت اچھے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جب گرے تو سب سے پہلے ہسپتال پہنچا، واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے جن کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی جب کہ میں بنی گالہ بھی گیا اور مل کر چلنے کی دعوت دی لیکن بنی گالہ کے بعد واپسی پر پتا چلا کہ طاہر القادری سے اتحاد ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف دھرنے تھے تو دوسری طرف دہشت گردی تھی لیکن دھرنے ہوتے رہے اور ہم موٹروے سمیت بجلی کے کارخانے لگاتے رہے۔
ججوں نے مجھے غصے سے نکالا، کیا یہ غصہ تھا؟ انہوں نے ملک کے ساتھ ظلم کیا۔ نواز شریف نے نے سوال کیا کہ مجھے فارغ کرنے والے جج کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہیں؟ سپریم کورٹ نے مجھے کیوں فارغ کیا، کون جج تھے، پوری قوم جانتی ہے جب کہ مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر سزا سنادی گئی تھی۔سابق وزیر اعظم نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا کسی ملک میں ایسا ہوتا ہے؟ ان میں ایک جج جس کو چیف جسٹس بننا تھا استعفیٰ دیکر چلے گئے۔ ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلہ دیا آج وہ کہاں ہیں؟ وہ جج کہاں ہیں جنہوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا۔نواز شریف نے مزید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے کیا بگاڑا تھا ؟ ہمارے خلاف اتنا غصہ کیوں تھا؟ اس سارے کھیل میں اور بھی پلیئرز تھے جب کہ 2017 میں ایسا لگ رہا تھا کہ ن لیگ دوبارہ اکثریت سے آئے گی، ان لوگوں نے ن لیگ کو نہیں ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ بہت سخت لڑائی لڑ کے یہاں پہنچے ہیں شہباز شریف کی گفتگو عمدہ تھی ہمارا پہلا دور بھی اچھا تھا بڑے منصوبے شروع کئے دوسرے دور میں بھی دو تہائی اکثریت سے جیت کر آئے تھے تیسرے دور کے بعد ہماری پارٹی پر ظلم کئے ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا جن کی کبھی مجھے سمجھ ہی نہیں آئی مجھے فارغ کرنے والے جج کسی کو منہ دیکھانے کے قابل ہیں انہوں نے مجھے نہیں ملک کو نقصان پہنچایا ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلہ دیا آج وہ کہاں ہیں انہوں نے ملک کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ آئی جی کو جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں ہم نے کہا ساتھ مل کر چلیں ہم آپ کو عزت دیں گے آپ نے اپنے دور میں کیا کیا کون سا منصوبہ لگایا قوم کے بچوں کو بدتمیزی نہ سکھائیں وزیراعظم بننے والے کو ایسا رویہ زیب دیتا ہے ہم 24 نمبر پر آچکے تھے ،20پر آنا مشکل بات نہیں تھی ہم تو کب کے جی20میں پہنچ چکے ہوتے ۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے ڈیڑھ سال ملک چلایا ،
ڈیفالٹ سے بچ یاا اس طرح کا زخمی پاکستان کبھی نہیں دیکھا ہم نے مل کر پاکستان کے زخم بھرنے ہیں پاکستان کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کا ہے پاکستان کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنا ہے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم کاا میدوارنامزد کرتا ہوں سردار ایاز صادق کو بطور اسپیکر کا امیدوار نامزد کرتا ہوں ۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ الیکشن میں جیتنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ہمارے ارکان قومی اسمبلی میں اپنے بل بوتے پر الیکشن جیت کر آئے ہیں اسلام آباد سے راجہ خرم نواز نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے آزاد ارکان نواز شریف پر اعتماد کر کے ن لیگ میں شامل ہوئے آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد قومی اسمبلی میں ہماری عددی اکثریت 104ہو گئی ہے 2017میں شبانہ روز محنت سے20، 20گھنٹے کی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کو ختم کیا گیا تھا، سی پیک کے منصوبے لائے گئے، چینی صدر کا دورہ دھرنوں کی وجہ سے مئوخر ہوا، پھر چینی صدر 2017میں تشریف لائے، پھر آپ نے مزید 5 ہزار میگاوٹ مزید بجلی پیدا کی ، چاروں صوبوں کو موٹرویز سے منسلک کیا،موٹروے کے بانی نوازشریف ہیں، پاکستان میں نوازشریف کے منصوبوں کی تختیاں گنی جائیں تو ایک ماہ لگ جائے۔کراچی کے لوگ دعائیں دیتے ہیں کہ آپ نے کراچی کا امن بحال کیا۔نوازشریف نے جھوٹے مقدمات برداشت کئے مگر کسی کو میرجعفر نہیں کہا،بھٹو پھانسی پر جھول گئے مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا،جب نوازشریف بیمار ہوئے ت وغلیظ زبان استعمال کی گئی، بیماری پر جملے کسنے کے باوجود صبر سے کام لیا۔نوازشریف اور مریم نواز نے عدالتوں کا سامنا کیا لیکن صبر سے کام لیا، ہم مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن میں اونچ نیچ ہوتی ہے کچھ جگہوں پر ہمارے ارکان بھی ہارے، اس کا مطلب جہاں ہارے وہ ٹھیک ہارے لیکن جہاں جیتے وہاں دھاندلی ہوئی ہے، یہ وہ دوغلا پن اور اپنی ان کی ذات ہے، کہ وہ پاکستان سے بھی اپنی ذات کو اوپر کردیتے ہیں۔ صدرمملکت ایک مرتبہ پھر آئین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں، اسمبلی کا اجلاس بلانا آئینی فریضہ تھا، عمران نیازی کے اشارے پر جس طرح ماضی میں آئین کی خلاف ورزی کی ، اسی طرح آج بھی آئینی خلاف ورزی کررہے ہیں،ان کے نزدیک کے پی اسمبلی پوری ہے باقی نہیں۔
Comments are closed.