وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے کے لیے صرف 4 ارب روپے جاری کیے، سیدمراد علی شاہ
کراچی(آن لائن )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے کے لیے صرف 4 ارب روپے جاری کیے ہیں جو کہ مختص 16 ارب روپے کی رقم کا ایک چوتھائی سے بھی کم ہے اس لیے منصوبے میں مزید تاخیر ہو رہی ہے اور وہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سندھ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹ امیدواروں جام سیف اللہ دھاریجو، اسلم ابڑو اور ان کے کورنگ امیدواروں وقار مہدی اور عاجز دھامراہ کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ واضح رہے کہ سینیٹ کی یہ دونوں نشستیں پیپلز پارٹی کے دو سینیٹرز نثار کھوڑو اور جام مہتاب ڈہر کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھیں جو 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہوکر سندھ کی صوبائی اسمبلی کے رکن بن گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں امیدوار آسانی سے صوبائی اسمبلی سے سینیٹر منتخب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف 108 ووٹوں کی ضرورت ہے جس کے مقابلے میں اسمبلی میں ہمارے 114 ووٹ ہیں اس لیے ہم انہیں آسانی سے منتخب کروا لیں گے جس کے لیے میں صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میئر مرتضیٰ وہاب کراچی کو دنیا کے جدید ترین شہروں میں سے ایک بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ ایک منتخب میئر کی حیثیت سے ان کے پاس تمام ضروری اختیارات ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر بلدیاتی قانون میں مزید اصلاحات کی ضرورت پڑی تو سندھ اسمبلی کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو بلدیاتی قانون میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں، جیسا کہ ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ایم کیو ایم سے بات ہوئی تھی۔’
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت ایم کیو ایم کی قیادت وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اسلام آباد میں ہے اور ہم ان سے صدارتی انتخاب کے لیے رابطہ کریں گے۔ مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کے سندھ میں اسٹیک ہیں، اس لیے ہم قانون سازی اور دیگر متعلقہ معاملات کے لیے ان سے مشورہ کریں گے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں تاکہ صوبے کے مسائل کو اجتماعی دانشمندی سے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لیے انہوں نے پولیس اور رینجرز کو ضروری ہدایات دی ہیں۔ ہم بہت جلد اسٹریٹ کرمنلز اور کچے کے ڈاکووٴں سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔ جب ان سے ان کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے 10 نکاتی انتخابی منشور پر پوری اخلاص کے ساتھ عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے جانفشانی سے کام کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو مسلسل چوتھی بار سندھ میں برسراقتدار بنایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف آج (پیر) کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی بنیادی ذمہ داری معیشت کو مضبوط کرنا ہوگی۔ ملک کے عوام کو اس وقت قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے، نئی وفاقی حکومت کو اس مسئلے کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یہ صرف اشرافیہ کی طرف سے لطف اندوز سبسڈی واپس لے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کو خط لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں کے فور منصوبے کی تکمیل کی درخواست کی جائے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کے فور منصوبہ شہر کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے تھے تاہم ابھی تک صرف 4 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس منصوبے کے باقی ماندہ فنڈز جلد جاری نہ کیے گئے تو یہ مزید تاخیر کا سبب بنے گا۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں رمضان المبارک، عیدالاضحیٰ اور دیگر خاص تہواروں پر تاجر کھانے پینے کی اشیاء اور کپڑوں کی قیمتوں میں کمی کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسی اشیاء کی قیمتیں جان بوجھ کر بڑھا دی گئیں جو کہ افسوسناک ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جی ڈی اے کا احتجاج میری سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ انہوں نے کتنی اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا اور وہ سیٹیں ہارے ہیں جو وہ ہمیشہ روایتی طور پر ہارتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ ان کے پاس زیادہ تر سیٹوں پر کوئی امیدوار نہیں تھا! پھر بھی وہ احتجاج کر رہے تھے۔ سید مراد علی شاہ کے مطابق پیر پگارا نے پہلے اعلان کیا تھا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے منتخب ایم پی اے حلف نہیں اٹھائیں گے۔تاہم، انہوں نے آگے بڑھ کر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنے انتخابی ریٹرن جمع کرائے اور خود کو مطلع کیا۔ مراد علی شاہ نے مشاہدہ کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی ڈی اے کے منتخب ایم پی اے نے پیر پگارا سے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے 10 نکاتی ایجنڈے کے تحت سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں غریب لوگوں کے لیے گھر تعمیر کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے سوال کیا کہ برساتی نالوں پر دکانیں بنانے کی اجازت کس نے دی؟ اور اب وہ بے گناہ اور شہر کے مالک بننے کی کوشش کر رہے ہیں!۔
Comments are closed.