وزیراعظم شہباز شریف خیبرپختونخوا میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ،جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں بیس لاکھ اور ز خمیوں کے لئے پانچ لاکھ فی کس کے امدای چیکس تقسیم کئے

پشاور (آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بارشوں نے سب سے زیادہ تباہی پشاور میں کی ، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ سات سر فہرست ممالک میں شامل ہے ، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بھر پور رتیا ری کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے صوبے میں بارشوں او ر سیلاب جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں بیس لاکھ اور ز خمیوں کے لئے پانچ لاکھ فی کس کے امدای چیکس بھی تقسیم کئے جبکہ مکمل تباہ شدہ گھروں کے متاثرین کے لئے سات لاکھ فی کس اور جزوی تباہ شدہ گھروں کے لئے تین لاکھ فی کس دینے کا اعلان بھی کیا ۔ پشاور میں بارشوں اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا بارشوں نے سب سے زیادہ تباہی صوبہ پشاور میں کی آزاد کشمیر میں بھی نقصان ہوا ۔ پشاور میں چالیس قیمتی جانوں کے ضیاع اور باسٹھ افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا ظہار کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ متاثرین اظہار تعزیت کرنے آیا ہوں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔

انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب متاثرین کی معاونت کو سرہاتے ہوے کہا کہ وفاقی حکومت بھی صوبے کے ساتھ مل کر متاثرین کی بھرپور مدد کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کے علاوہ بلوچستان کا بھی دورہ کیا ۔ بطور مسلمان اور پاکستانی اپنا فرض ادا کرنے آیا ہوں ۔ جو ذمہ داری ملی اللہ کو گواہ بنا کر اسکو نبھانے آیا ہوں ۔ انہوں نے کہا متاثرین کی معاونت کے لئے پی ڈی ایم اے اور مخیر حضرات کی خدمات بھی قابل ستائش ہیں ۔ انہوں نے کہا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ سات ممالک میں شامل ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنیوالی آفات سے نمٹنے کے لئے بھر پور تیاری کرنی ہو گی ۔ ورنہ آنیوالی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ۔ وازیرا عظم نے بارشوں سے جاں بحق ہونے والوں میں بیس لاکھ فی کس اور زخمیوں کے لئے پانچ لاکھ فی کس کے امدادی چیک تقسیم کئے ۔ انہوں نے مکمل گھر تباہ ہونے والوں کے لئے سات لاکھ اور جزوی تباہ شدہ گھروں کے لئے تین لاکھ فی کس دینے کا بھی اعلان کرتے ہوے کہا کہ یہ امدادی چیک پانچ دنوں کے اندر دے دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے لئے کوئی سیاست اور نہ ہی کوئی دباو ہے یہ اللہ کے خوف سے ہے ۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے ۔

Comments are closed.