ایوان میں حلف کی پاسداری نہیں کی جاتی،سویلین بالادستی کیلئے مذاکرات ہونے چاہئیں،سینیٹر مشتاق احمد خان
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ بدقسمتی سے ایوان میں اٹھائے جانے والے حلف کی پاسداری نہیں کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو سویلین بالا دستی اور میڈیا کی آزادی کیلئے آپس میں مذاکرات کرنے چاہیے۔ اپنے الواداعی خطاب میں سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ اپنی 6سالہ مدت پوری کرکے اس ایوان سے جارہا ہوں انہوں نے کہاکہ بطور سینیٹر گذشتہ چھ سالوں میں اپنی پہلی ترجیح حاضری اور ایوان کی کاروائی میں شرکت کو دی ہے انہوں نے کہاکہ ہمیشہ اس سیٹ پر باوضو بیٹھا ہوں اس لئے میں سیاست کو تجارت نہیں بلکہ ایک مشن سمجھتا ہوں انہوں نے کہاکہ ہمیشہ اپنے حلف کی وفاداری کی ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی اس ایوان میں آئین کے مطابق قانون سازی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے کہنے پر قانون سازی ہوتی ہے اس ادارے میں لوٹ مار ہوتی ہے اور چھ سالوں کے دوران حلف میں دئیے جانے والے الفاظ پر عمل درآمد نہیں دیکھا ہے انہوں نے کہاکہ اپنے صوبے کے عوام کا درد بیان کرنے کی کوشش کی ہے تاہم افسوس ہے کہ اپنے صوبے کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکا انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں 18ویں ترمیم کا اس ایوان میں دفاع کیا ہے انہوں نے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ میں سود کو ختم نہیں کر سکا اس ایوان میں شراب کے خلاف قانون سازی منظور نہ کر سکا اسی طرح اسٹیٹ بنک کو نہیں بچا سکا اسی طرح آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو روک نہ سکا اسی طرح ٹرانس جینڈر ایکٹ کو کوشش کے باوجود تبدیل نہ کرسکا
اسی طرح ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا کا قانون نہ منظور کر سکا انہوں نے کہاکہ مسنگ پرسنز کا درد بیان کیا انہوں نے کہاکہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کو روکنے میں کامیاب ہوا ملک میں موجود شوگر مافیا ،ڈرگ مافیا کو ایکسپوز کیا گیا اس دوران مجھے ڈرایا گیا مگر میں ڈٹا رہا اور کھڑا رہا اور ان چھ سالوں میں اپنے جائز کاروبار سے اپنے آپ کو دور رکھا اور آج اس ایوان کے سامنے پیش کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں تو عوامی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا انہوں نے کہاکہ کور کمانڈر کانفرس کا اعلامیہ اس صدی کا سب سے بڑا مذاق تھا اپنے بیان سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کریں کہ آپ کو انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تھا انہوں نے کہاکہ جب تک قائداعظم کے ویڑن کے مطابق جمہوریت نہیں ہوگی کبھی بھی معاشی اور سیاسی مسائل حل نہی ہونگے اور نہ ہی ملک دیگر ممالک کے سامنے سر اٹھا کر چل سکتا ہے انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے محبت ہے تاہم اس کی سیاست سے مداخت کو ختم کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں پر ذاتی تنقید نہیں کی تاہم تمام سیاسی جماعتوں کو اندرونی جمہوریت لانی چاہیے اور نظریاتی کارکن کو اہمیت اور حیثیت دینی چاہیے انہوں نے کہاکہ اگر ہم 45سال بعد بھی کسی منتخب وزیر اعظم کو انصاف فراہم نہ کرسکیں
انہوں نے کہاکہ کل عدالت نے اپنے خلاف فیصلہ سنایا ہے تمام سیاسی جماعت آپس میں مذاکرات کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر جمہوریت کی بالادستی کیلئے کام کریں اور تمام سیاسی قیدیوں اور صحافیوں کو رہا کیا جائے انہوں نے کہاکہ اس ملک کی سالمیت کیلئے میڈیا کی آزادی بہت ضروری ہے اگر میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو ہوگا انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی فطری خوبصورتی کو برقرار رکھنے کیلئے اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہے انہوں نے کہاکہ اب ایوان سے باہر سڑکوں پر پارلیمنٹ لگاؤں گا۔بعد ازاں اپنے الوداعی خطاب میں سینیٹر مولانا فیض محمد نے کہاکہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کو ظاہر کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہو تو اس پر کھلی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس پورے ملک تک پہنچ گئی مگر بلوچستان کو نہ گیس ملی اور نہ ہی گیس کے پیسے ملے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے معدنیات پر قبضہ کیا گیا ہے یہ بڑا ظلم ہے یہ پہاڑ مقامی لوگوں کی ملکیت ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے وسائل اور معدنیات کے معاملے پر ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو ان کے پورے حقوق دئیے جائیں۔
Comments are closed.