اسلام آباد ہائی کورٹ:بشری بی بی کی سب جیل موجودگی سے متعلق رپورٹ طلب

اسلام آباد ( آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشری بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بشری بی بی کی سب جیل میں موجودگی سے متعلق عدالت نے ریورٹ طلب کر لی۔عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ کے سینئر افسر کو سب جیل بنی گالہ کا دورہ کرنے کا حکم دیاہے اورکہاہے کہ بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کی درخواست پر سپریڈنٹ جیل آرڈر پاس کرے ، سپرینڈنٹ جیل آرڈر کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کرائیں۔

جمعرات کوبشری بی بی کی بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کی۔اس دوران بنی گالہ منتقلی کی چیف کمشنر کی منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کیاگیا جس پر عدالت نے اسٹیٹ کونسل سے ہوچھاکہ ہہ گھر کس کی ملکیت ہے ؟ کیا مالک مکان کی مرضی سے یہ ہوا ہے ؟ جسٹس گل حسن نے کہاکہ جب کسی کے گھر کو آپ سب جیل قرار دیتے ہیں تو کیا مالک سے اجازت لیتے ہیں ؟ کیا اس کیس میں گھر کے مالک سے آپ نے اجازت لی تھی۔ وکیل نے بتایاکہ یہ گھر عمران خان کا ہے اور بنا مشاورت کے گھر کو جیل کا درجہ دیا گیا، اسٹیٹ کونسل نے بتایاکہ بشری بی بی کیونکہ سابق فرسٹ لیڈی ہیں اس لیے ان کی سیکورٹی کے لئے بنی گالہ منتقلی ہوئی ہے ،وکیل عثمان نے کہاکہ یہ پورا پراسس ہی غیر قانونی ہے یہ آئی جی جیل خانہ جات کا کام تھا ، جب بشری بی بی اڈیالہ جیل میں داخل ہو چکیں تھیں تو سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کا منتقلی اختیار نہیں تھا ، یہ آئی جی جیل خانہ جات کا اختیار تھا

، اس پرجسٹس میاں گل نے کہاکہ پٹشنر کو بنی گالہ میں کس طرح رکھا گیا ہے ؟ وکیل نے بتایاکہ بنی گالہ کے ایک کمرہ میں بند کرکے رکھا گیا ہے ،سرکاری وکیل نے بتایاکہ میں جیل حکام سے پوچھ کر عدالت کو بتاوٴں گا ، وکیل عثمان نے کہاکہ عدالت بیلف مقرر کر دے وہ جا کر دیکھ کر آج ہی ریورٹ دے دے ، 31 جنوری کے بعد ایک دن بھی عمران خان کی بشری بی بی سے ملاقات کی اجازت نہیں دے گئی ، اس پر عدالت نے رپورٹ مانگ لی اور درج بالا احکامات جاری کیے۔

Comments are closed.