ریٹرننگ افسران کا انتخابی عمل کو متاثر کرنا انتہائی نامناسب ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد(اان لائن ) سپریم کورٹ نے ریٹرنگ افسران کے کردار پر انتہائی اہم فیصلہ جاری کردیاہے جس میں کہاگیاہے کہ ریٹرننگ افسران کا انتخابی عمل کو متاثر کرنا انتہائی نامناسب ہے، کسی امیدوار کیلئے تکنیکی رکاوٹیں ڈالنا، ووٹ ڈالنے والوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے جیسا ہے،جسٹس منیب اخترکی سربراہی میں تین رکنی بنچ کی جانب سے شوکت محمودبنام الیکشن کمیشن آف پاکستان کیس میں فیصلہ جاری کیاہے فیصلہ گیارہ صفحات پرمشتمل ہے جس میں کہاگیاہے کہ انتخابات جمہوریت کی اساس ہوتے ہیں ! انتخابات میں حصہ لینے والوں کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے ! کسی ایک فرد کیلئے تکنیکی رکاوٹیں ڈالنا جمہوری روایات اور اصولوں کیخلاف ہے ! ریٹرننگ افسر کی ایماء پر الیکٹورل قوانین اور رولز کو صوابدیدی فلٹرنگ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ! ریٹرننگ افسر کو صوابدیدی اختیارات کو اعتدال پسندی اور محتاط انداز میں استعمال کرنا چاہیے ! ریٹرننگ افسران انتخابی عمل کا لازمی حصہ ہوتے ہیں ! ریٹرننگ افسر کی جانب سے انتخابی عمل کو متاثر کرنا انتہائی نامناسب ہے !

افسران کو یاد رکھنا چاہیے انتخابی عمل میں حصہ لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے ! کسی ایک امیدوار کو اس حق سے مجروح کرنا ناصرف اسکے بلکہ اسے ووٹ ڈالنے والوں کے بھی بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکہ مارنے کے مترادف ہے۔فیصلے میں مزیدکہاگیاہے کہ انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 16ویں صدر کے طور پر ابراہم لنکن نے ایک بار کہا تھا کہ انتخابات عوام کی ملکیت ہیں لہذا، یہ ضروری ہے کہ الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں کو جہاں تک ہوسکے سہولت فراہم کی جائے۔الیکشن لڑو. اور اس پس منظر میں یہ کہنا مناسب ہے۔انتخابی قوانین اور قواعد کو من مانی فلٹرنگ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا،طریقہ کار، ریٹرننگ آفیسر کی خواہشات پر منحصر ہے۔عقلی اور محتاط انداز میں ریٹرننگ آفیسر کو صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔درخواست گزار نے بہاولپور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 163سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے تاہم ان پرریٹرننگ آفیسرنے اعتراضات لگادیے تھے۔الگ سے بنک اکا?نٹ نہ کھلوانے کاجوازبناکر کاغذات مستردکیے گئے تھے۔اپیلٹ ٹریبونل نے بھی آراوکے فیصلے کے خلاف دائر اپیل خارج کردی تھی۔جس پر اس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھااور سپریم کورٹ نے اسے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی اور اس کانام اور انتخابی نشان بیلٹ پیپررپرچھاپنے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں۔

Comments are closed.