پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے ) کی جنرل کونسل کا اجلاس:پی آر اے کے انتخابات ستمبر میں کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے ) کی جنرل کونسل کا اجلاس زیر صدارت صدیق ساجد سپیکر چیمبر پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی آر اے کے آئندہ انتخابات سمیت دیگر امور زیر بحث آئے اس موقع پر کونسل ممبران کی منظوری کے ساتھ 3رکنی الیکشن کمیٹی کی منظور ی دی گئی ۔جس میں پی آر اے کے سینئر ممبران اعجاز احمد ،طارق سمیر اور محمد منیر شامل ہیں تین رکنی الیکشن کمیٹی اپنے چیرمین کا انتخاب خود کرے گی۔پی آر اے انتخابات اگلے مہینے ستمبر میں کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے دوران صدر پی آر اے صدیق ساجد نے بتایا کہ اس وقت پی آر اے کے 278ممبران میں سے صرف 132ممبران نے فیس جمع کرائی ہے اور بار بار تاریخ میں توسیع کے باوجود ممبران نے فیس جمع کرانے میں دلچسپی نہیں لی ہے جس پر ممبران کی اکثریت کی جانب سے الیکشن کمیٹی کو پی آر اے کی ممبر شپ فیس جمع کرنے کے حوالے سے اختیارات دئیے گئے اب الیکشن کمیٹی انتخابات کے اعلان سے قبل ممبرشپ کی وصولی کیلئے حتمی تاریخ دے گی جس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں پیمرا ترمیمی بل کی منظوری پر صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی ،سابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف ،چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی ،سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی کاوشوں پر ان سے اظہار تشکر کیا گیا جبکہ صدر پی آر اے نے پیمرا ترمیمی بل کی منظوری ی کے حوالے سے پی آر اے کے ممبران سمیت دیگر صحافتی تنظیموں کی کاوشوں اور اتحاد و یکجہتی کو بھی سراہا۔

اجلاس میں سکھر میں کے ٹی این کے صحافی جان محمد مہر کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اجلاس میں پیمرا ترمیمی بل کی مخالفت کرنے پر اینکر پرسن حامد میر اور عامر متین کی پی آر اے کی اعزازی رکنیت ختم کرنے کی قرارداد بھی بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر صدر پی آر اے صدیق ساجد نے سیکرٹری آصف بشیر چوہدری سمیت کابینہ اور ایگزیکٹیو کمیٹی اور پی آر اے کے تمام ممبران کی جانب سے گذشتہ دو سالوں کے دوران تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا پی آر اے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے وہ ممبران آگے آئین جوصرف عہدے کا حصول نہ چاہتے ہوں بلکہ تنظیم کیلئے وقت دینے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ سے وابستہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی کام کرسکیں۔

Comments are closed.