سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے بعد پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، آئی ایم ایف

اسلام آباد ( آن لائن )بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے حوالے سے کہا ہے کہ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے بعد پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، ایس بی اے کا آخری جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے اب بورڈ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا ۔اپنی پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف حکام کاکہنا تھا کہ پاکستان کو شدید اقتصادی عدم توازن کو دور کرنے میں مدد ملے گی پروگرام سے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ہے اوربجٹ خسارے کی سطح کو کم کرنا ضروری ہے ریونیو کی صورتحال کو بہتر بنا کر مالیاتی صورتحال کو مضبوط بنانے پر کام جاری رکھا جائے۔

آئی ایم ایف حکام کاکہنا تھا کہ محصولات میں اضافہ حکومت کو قرضوں کی صورتحال سے نمٹنے کی اجازت دے گا سماجی مدد فراہم کرنے کے منصوبے میں بہتری لائی جاسکتی ہے وانائی کے شعبے میں اصلاحات کیلئے مزید کام کی ضرورت ہے آئی ایم ایف پاکستان کو مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے جب پاکستان کی حکومت کہے گی فنڈ مدد فراہم کرے گا کستان کے دو طرفہ شراکت دار بھی پاکستان کو اضافی مالی مدد فراہم کرنے کے پروگرام کے منتظر ہیں۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی 2024 شرح نمو 2023 سے بہتر رہی گی غزہ اور اسرائیل کے تنازعہ سے خطے کے ممالک کی مشکلات میں اضافہ کا خدشہ ہے پاکستان میں 2023 میں کمزور مالی و زری پالیسی، بجلی اور گیس ٹیرف میں اضافے سے مہنگائی بڑھی پاکستان کو بیرونی ادائیگی کے دباوٴ کا سامنا ہے پاکستان کو قرض اور یورو بانڈ کیلئے بڑی ادائیگی کرنا پڑی۔ آئی ایم ایف حکام کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو مقامی ادائیگی کیلئے بینکوں سے زیادہ قرض لینا پڑا پاکستانی بینکوں نے حکومت کو سب سے زیادہ قرض دیا ہوا ہے معاشی بحالی میں مسلح تنازعات، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور دیگر ڈھانچہ جاتی مسائل حائل ہیں رواں سال حکومتی اداروں کی مالی ضروریات کو پورا کرنا پاکستان کیلئے بڑا چیلنج ہے، حکومت کی طرف سے بینکوں سے زیادہ قرض لینے کے باعث نجی شعبے کو کم قرض ملتا ہے پاکستان کو اخراجات، سبسڈی میں کمی ٹیکس چھوٹ کو ختم اور ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا چاہیے۔ پاکستان تجارت پر پابندی اٹھا کر برآمدات کو 15 فیصد تک بڑھا سکتا ہے تجارتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنا کر پاکستان برآمدات میں 8 فیصد اضافے کر سکتا ہے پاکستان اپنے ریگولیٹری نظام کو بہتر بنا کر برآمدات میں 6 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور کسٹمز میں سہولت کاری سے برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں۔

Comments are closed.