توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد :عمران خان اور انکے وکلاء نے فرد جرم کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا
اسلام آباد(آن لائن) توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی جبکہ عمران خان اور انکے وکلاء نے فرد جرم کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔
تفصیل کے مطابق توشہ خانہ کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے جج ہمایوں دلاور خان نے پولیس لائن ہیڈکوارٹر ایچ الیون کے گیسٹ ہاوٴس میں کی جہاں عمران خان کو پیش کیا گیا،کمشنر آفس نے حفاظتی وجوہات کے باعث پولیس لائنز کو عدالت کا درجہ دیا ہے ۔ دوران سماعت عمران خان کے وکلاء کی جانب سے جج پر اعتراض کیا گیا اور کیس کسی اور عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر تے ہوئے فرد جر عائد کی، کمرہ عدالت میں عمران خان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی۔عمران خان نے صحت جرم اور دستاویزات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔عمران خان کے وکلاء نے عدالت سے باہر آتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے فرد جرم عائد کرنا چاہی، ہم بائیکاٹ کرکے باہر آگئے۔عدالت نے گزشتہ ہفتے عمران کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد دائرہ اختیار اور قابل سماعت نہ ہونے کی درخواستیں مسترد کی تھی ،عدالت نے عمران خان کو 10 مئی کو ذاتی حیثیت میں فردجرم کی کاروائی کے لیے طلب کیا تھا
عدالت نے قرار دیا تھا کہ سابقہ جج نے گواہان اور ثبوتوں کی بنیاد پر عمران خان کو نوٹس اور وارنٹ جاری کیے عمران خان کے خلاف شکایت قابلِ سماعت تھی جس پر دوبارہ اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا،مجسٹریٹ کی عدالت میں شکائت دائر کرنے کا قانون الیکشن ایکٹ 2017 پر نافذ نہیں فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ سیکشن 190 الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت سیشن عدالت براہ راست ٹرائل کر سکتی ہے الیکشن ایکٹ 2017 ایک عام قانون سے ذیادہ اہمیت کا حامل ہے الیکشن ایکٹ 2017 ملزم کو کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھانے کا حق نہیں دیتا الیکشن کمیشن کے پاس الیکشن ایکٹ کے تحت ملزم کے خلاف انکوائری کرنے کا حق ہے گزشتہ سال دسمبر میں نوٹس موصول ہونے کے بعد عمران خان کے وکلاء نے متعدد عدالت میں حاضری دی، عمران خان کے وکلاء نے استثنا، وارنٹ کی منسوخی اور مچلکے جمع کروائے لیکن کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض نہیں اٹھایا
عمران خان نے شکایت کو تسلیم کیا بلکہ عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی تسلیم کیا نوٹس موصول ہونے کے بعد شکائت قابل سماعت ہوجاتی ہے جس کے بعد عمران خان اعتراض نہیں اٹھا سکتے ،اب فردجرم عائد ہونی ہے جس میں عمران خان کو ثبوت فراہم کرنے کا موقع ملے گا، چیئرمین ای سی پی نے اپنے چار ممبران کے ہمراہ عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی ڈائریکشن دی، الیکشن کمیشن نے اتھارٹی لیٹر منسلک کیا جس کے بعد توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہوجاتاہے
شکایت کنندہ کے دستخط پر اعتراض اٹھایا لیکن دستخط کا معمولی مختلف ہونا عام سی بات ہے ،ٹرائل کے دوران شکائت کنندہ کے دستخط جرح کے دوران چیک کیے جاسکتے ،ہیں حقائق سامنے آنے کے بعد شکائت دائر ہوئی جس پر 120 دنوں کا قانون نافذ نہیں ہوتادرخواستوں کے دائر کرنے کا پوچھا تو عمران خان کے وکیل نے کہا کہ درخواست کو درخواستِ بریت سمجھا جائیاعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق ملزم کیس کی کسی بھی اسٹیج پر درخواستِ بریت دائر کرسکتاہے۔
Comments are closed.