صحافیوں کیلئے نئی رہائشی سکیم کی خوشخبری کا اعلان وزیراعلیٰ مریم نواز کریں گی،عظمی بخاری
اسلام آباد (آن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ صحافیوں کیلئے نئی رہائشی سکیم کی خوشخبری کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کریں گی ،نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمی بخاری نے کہا کہ صحافیوں کی رہائشی سکیم فیز ٹوپرکام ہورہاہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود اس کا باقاعدہ اعلان کریں گی، جس کے بعد میڈیا ٹاوٴن فیز 2 جلد پائے تکمیل کو پہنچے گا، میٹرو بس کو میڈیا ٹاوٴن تک لے کے جا رہے ہیں، ہماری حکومت صحافیوں کی بھرپور مدد کرے گی کیوں کہ میری جماعت میڈیا فرینڈلی جماعت ہے، ہر حکومت نے میڈیا پہ پابندی لگائی لیکن ہماری پارٹی میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، میں کبھی میڈیا کو کوئی خبر روکنے کے لیے نہیں کہوں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز 12 گھنٹے کام کرتی ہیں، اسی لیے اگر کوئی حکومت کام کرتی نظر ارہی ہے تو وہ پنجاب حکومت ہے، پنجاب میں وزیراعلی مریم نواز کی قیادت میں ترقی کے کام تیزی سے جاری ہیں، 64 لاکھ خاندانوں کو راشن کی فراہمی ہو یا ائیر ایمبولینس کا آغاز پنجاب حکومت کا خاصا ہے، مریم نواز کی حکومت کا کوئی منصوبہ فائل میں نہیں ہے بلکہ ہر کام گراوٴنڈ پر ہورہا ہے، سرگودھا میں دل کے امراض کے ہسپتال پر تیزی سے وزیراعلیٰ کے حکم پر کام ہورہا ہے، ہم دستک پروگرام پر تیزی سے کام کا آغاز کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتی ہوں کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کوئی اپنا دس سال میں ایک بڑا منصوبہ بتائے، خیبر پختونخواہ کی عوام کا حق ہے کہ ان کو بھی ترقیاتی منصوبے ملیں، 9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوگا، ایک سیاسی جماعت جب باہر نکلتی ہے پولیس والوں کے سر کھولے جاتے ہیں، 2012ء سے 2024ء تک ان کا وطیرہ رہا ہے کہ نقصان ہی کرنا ہے، سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں دہشت گردوں پر ضرور پابندی ہوگی۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رمضان پیکج پر عوام سے بعد میں معافی مانگ لی، خیبرپختونخوا حکومت نے ائیر ایمبولینس کا اعلان کیا بعد میں معذرت کرلی، ہمارے مخالفین کی زبان درازی کے کلچر میں تبدیلی نہیں آرہی ہے، ہم جگہ جگہ جاکر پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں، یہ لوگ کبھی آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں تو کبھی آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر جاکر بیٹھ جاتے ہیں
، پاکستان کی کچھ بہتری ہونے لگتی ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں ہم چڑھائی کردیں گے لیکن مریم نواز کو ان رویوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے،انہوں نے کہا کہ سیاست کا آغاز کیا تو نجانے کیسے میڈیا میں آگئی تب سے میڈیا اور میں ساتھ ساتھ ہیں،میڈیا میری ایک فیملی کی طرح ہے اتنا وقت میں اپنی فیملی کو نہیں دے پاتی جتنا میڈیا کو دیتی ہوں،صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے جو گزارشات کی ہیں اس پر عمل درآمد ہوگا،جرنلسٹ سپورٹ فنڈ کے حوالے سے پراسس کا نوٹس لیا ہے اس پر ڈیڈ لائن مقرر کروں گی،صحافیوں کی ضرورت کو بروقت پورا کیا جانا ضروری ہے،میڈیا ٹاون فیز 2 کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے،سیاست حکومتوں میں ایک مقابلہ کی فضاء ہوتی ہے ،گورننس اور عوام کو ریلیف دینے کا مقابلہ ہوتا ہے،اگر اس وقت کوئی صوبائی حکومت کام کررہی ہے وہ مریم نواز کی حکومت ہے،64 لاکھ خاندانوں کو راشن کی فراہمی ہو یا ائیر ایمبولینس کا آغاز پنجاب حکومت کا خاصا ہے،مریم نواز کی حکومت کا کوئی منصوبہ فائل میں نہیں ہے ہر کام گراونڈ پر ہورہا ہے،سرگودھا میں دل کے امراض کا اسپتال پر تیزی سے وزیر اعلی کے حک پر کام ہورہا ہے،دستک پروگرام پر وزیر اعلی تیزی سے کام کا آغاز کررہی ہیں،ہم جگہ جگہ جاکر پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور صاحب مقابلہ کریں قابلیت میں قبولیت میں اور پرفارمنس میں ،مریم نواز کی 2 ماہ کی حکومت نے نتائج دینا شروع کردیئے ہیں،پنجاب میں آٹے کے تھیلے میں 8 سو روپے کی کمی ہوئی ہے،سبزیوں کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے اور یہ کمی جاری رہے گی،ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں دہشت گردوں پر ضرور پابندی ہوگی،عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے سوال پر عظمی بخاری نے شعرپڑھا”پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا“اور کہا کہ اس شعر میں شاعر این آر او مانگنا چاہتا جو اسے نہیں ملنا،سستی روٹی پروگرام فلاپ نہیں ہوا عمل درآمد کروا رہے ہیں ،وزارت اطلاعات کو چلانا ہے جو کام نہیں کرے گا وہ رہ نہیں سکتا،جو سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر کے حوالے سے افواہیں پھیلائی گئیں ،جنھوں نے یہ سازشی بیانیہ بنایا اسکا بھی علم ہے ،جو یہ سازشیں کررہے ہیں انکی پرفارمنس بھی سب کے سامنے ہے،ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ یقینا عوام نواز شریف کو ہی وزیر اعظم دیکھنا چاہتی تھی،قائد نواز شریف نے ووٹ ڈالتے وقت کہا تھا کہ سادہ اکثریت ہوگی تو وزارت عظمی لوں گا،شہباز شریف کا اتحادی حکومت چلانے کا اچھا تجربہ ہے،تنی ہوئی ڈور پر حکومت چلانا مشکل ہوتا ہے یہ کام شہباز شریف ہی کرسکتے تھے،شہباز شریف نے ملک کی گرتی معیشت کو سنبھالا ،شہباز شریف نے جس طرح آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کئے وہ سب کے سامنے ہیں،شہباز حکومت کو 9 مئی اور احتجاجی مظاہروں کا سامنا رہا پھر بھی حکومت چلائی ،عہدوں کو حکومت اور پارٹی سے الگ کرنا اچھا اقدام ہوگا،ایک اور سوال پر عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ میں بھی صوبائی وزیر کے ساتھ صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہوں،سرکاری عہدے کے ساتھ پارٹی کا عہدہ چلانا مشکل ہوگا ہے،جو پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی اس پر عمل درآمد ہوگا،نواز شریف کو چھوٹے مقدمات میں پارٹی لے عہدے سے الگ کیا گیا تھا،ایک قرارداد پاس کی ہے مسلم لیگ ن نواز شریف کو ایک بار پھر پارٹی صدر منتخب کرے گی
Comments are closed.