چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں مداخلت سے متعلق سب کچھ بتا دیا

اسلام آباد(آن لائن )چیف جسٹس قاضی فائزعیسیی نے سپریم کورٹ کے اندرونی مداخلت بارے سب کچھ بتلادیا۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے کے خلاف کس کس نے نظر ثانی درخواستیں دائر کی؟ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اندرونی مداخلت کیسے ہوتی ہیں، چار سال سے زائد عرصے تک نظر ثانی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں ہوئی، کوئی وضاحت ہے کہ کیوں تقریباً پانچ سال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی؟ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا اس کے لیے بھی ایگزیکٹو ذمہ دار ہے؟ یہاں پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

، دنیا کو کیا نہیں پتہ تھا کہ اس وقت پاکستان کو چلا کون رہا تھا؟ مگر شاید آپ لوگوں نے انہیں بچانا تھا یا شاید نہیں۔انہوں نے کہا کہ میری ذات پر انگلی نا اٹھائیں، میں نے لکھ کر دیا تھا کہ جنرل فیض حمید اس کے پیچھے تھے، یہ معاملہ اس وقت کی حکومت پر چھوڑ دیا گیا، میری اہلیہ نے بھی پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا ، جب لوگ پٹری سے ہٹ جائیں تو پھر قانون سازی کی ضرورت پڑ جاتی ہے، حکومت آخر کب قانون سازی کرے گی؟چیف جسٹس پاکستان نے بتایا کہ جب تک پارلیمان مضبوط نہیں ہوگی دوسری طاقتیں مضبوط بنتی جائیں گی۔

Comments are closed.