ادھار کی رقم سے ملک نہیں چلائے جا سکتے‘ احسن اقبال
اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ادھار کی رقم سے ملک نہیں چلائے جا سکتے‘ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے نجی شعبے کے تجربہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں،حکومت ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کا فروغ چاہتی ہے، نجی شعبے نے ملک کی ایکسپورٹ بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستانی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے۔وفاقی وزیر سے انفراسٹرکچر سرمایہ کاری سے تعلق رکھنے والے نجی شعبے کے سرمایہ کاروں نے ملاقات کی ۔وفاقی وزیر نے پبلک سیکٹر ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ پر زور دیا اور کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کا فروغ چاہتی ہے، نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے مشکل حالات میں ملکی معیشت سنبھالنے میں اہم کردار اداکیا۔احسن اقبال نے کہا کہ نجی شعبے نے ملک کی ایکسپورٹ بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا،پاکستانی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے،
اس وقت ملک کو معاشی چیلنجز درپیش ہیں، جن پر ہم اپنی پالسیوں کیباعث قابو پانے کے لئے پرامید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں ن لیگ کی حکومت 1000 ارب کا وفاقی ترقیاتی بجٹ چھوڑ کر گئی تھی، ہماری حکومت کے خاتمے کے وقت تمام معاشی اشاریہ مثبت جا رہے تھے،سی پیک کے زریعے ملک کو ترقی کی سمت پر ڈالا جا رہا تھا، جب ہماری حکومت کو ختم کیا گیا، پاکستان دنیا کی 24 بڑی معیشت بننے کے سفر پر گامزن تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ترقیاتی بجٹ کو کم کرکے 500 ارب روپے پر لے گئی، جس کا ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوا، پی ٹی آئی حکومت میں ملک سی پیک سمیت ملک کے اہم ترقیاتی منصوبے منجمد کر دیے گئے، ن لیگ کی حکومت دوبارہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کو 950 ارب روپے تک لے گئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی کے لیے ترقی کے عمل پر سمجھوتا نہ کیا جائے، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے زریعے ملک کے اہم ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل چاہتے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے نجی شعبے کے تجربہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ادھار کی رقم سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔احسن اقبال نے کہا کہ چین اور بھارت جیسے ملک پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے زریعے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کر رہے ہیں، جلد ہی سی پیک منصوبوں پر تیزی سے کام کا اغاز ہو جائے گا، نواز شریف کے وژن کے مطابق ملک کا سڑکوں کا نیٹ ورک مکمل کر لیں گے، جس کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اہم کردار ادا کر سکتی ہے، نجی شعبے کے ساتھ ملکر روڈ، ریلوے نیٹ ورک کو ملک کے طول و عرض میں بچھانا چاہتے ہیں۔
Comments are closed.