مالی سال کے 6ماہ، مالی خسارہ 2.7 ٹریلین یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہو گیا
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 2.7 ٹریلین یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہو گیا،6ماہ میں قرض کی ادائیگی پر بجٹ کا 64 فیصد 2.6 ٹریلین روپے خرچ ہوگئے،مقامی اور بین الاقوامی ادھار کا 80 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا،وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 2.7 ٹریلین یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہو گیا،چھ ماہ میں ٹیکس سے آمدن میں 30 فیصد اور نان ٹیکس آمدن میں117فیصد اضافہ ہوا‘ سول حکومت اور دفاعی امور کے لئے مختص بجٹ کا 42 فیصد خرچ ہوا۔وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار جاری کر دیئے، وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 2.7 ٹریلین یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہو گیا،دستاویزکے مطابق چھ ماہ میں قرض کی ادائیگی پر بجٹ کا 64 فیصد خرچ ہوا، قرض کی ادائیگی پر اخراجات بڑھنے کی وجہ بلند شرح سود ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سود کی ادائیگی پر 2.6 ٹریلین روپے خرچ ہوئے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اسی عرصے کے دوران قرض کی ادائیگی 65 فیصد زیادہ خرچ ہوئے،وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے دوران قرض اور سود کی ادائیگی کے لئے 7.3 ٹریلین روپے مختص کر رکھے ہیں،قرض اور سود کی ادائیگی پر بجٹ کا 58 فیصد مختص ہے، مقامی اور بین الاقوامی ادھار کا 80 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا،رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سود کی ادائیگی جاری اخراجات کا 65.3 فیصد کے برابر ہے، مقامی قرض کی ادائیگی پر 3.72 ٹریلین، بیرونی قرض کی ادائیگی پر 502 ارب روپے خرچ ہوا،ترقیاتی پروگرام کیلئے مختص 950 ارب سے صرف 158ارب روپے خرچ ہوئے، حکومت کو مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ترقیاتی پروگرام پر 50 فیصد خرچ کرنا ہوتا ہے،وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 2.7 ٹریلین یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہو گیا، گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں مالی خسارہ 1.78 ٹریلین یا جی ڈی پی کا2.1 فیصد تھا، صوبوں کا کیش سرپلس 289 ارب روپے رہا جو گذشتہ سال 101ارب روپے تھا، مالی خسارے کا 77 فیصد مقامی ذرائع سے پورا کیا گیا، جولائی سے دسمبر 2023 کے دوران وصولیوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکس سے آمدن میں 30 فیصد اور نان ٹیکس آمدن میں117فیصد اضافہ ہوا، رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی مجموعی آمدن چار ٹریلین سے زیادہ رہی، پاکستان کی مجموعی آمدن گزشتہ سال 2.5 ٹریلین روپے تھی،رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پرائمری سرپلس 1.8ٹریلین روپے رہا، رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ایف بی آر کی آمدن30 فیصد اضافے سے 4.5ٹریلین روپے رہی، رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران نان ٹیکس آمدن66.8فیصد سے زیادہ بڑھی، سول حکومت اور دفاعی امور کے لئے مختص بجٹ کا 42 فیصد خرچ ہوا۔
Comments are closed.