پنجاب سے کے پی کے اور پھر افغانستان گندم کی اسمگلنگ کا ڈراپ سین

اسلام آباد(آن لائن)پنجاب سے کے پی کے اور پھر افغانستان گندم کی اسمگلنگ کا ڈراپ سین‘108سرکاری افسران و اہلکار خود ملوث نکلے، خفیہ اداروں کے تحقیقات میں کچا چٹھا کھول دیا، افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کر دی گئی ،وفاقی حکومت نے ملوث افسران کے خلاف پنجاب حکومت کو خط لکھ دیا، 2 اسسٹنٹ کمشنر بھی گندم کی سمگلنگ میں ملوث نکلے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب سے کے پی کے اور پھر افغانستان گندم کی اسمگلنگ کا ڈراپ سین ہوگیا ہے اور اسمگلنگ کی روک تھام پر مامور افسران خود ہی اسمگلنگ میں ملوث نکلیاسمگلنگ کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگادیا گیا۔اسمگلنگ میں ایک نہیں دو نہیں پورے 108افسران اور اہلکار ملوث نکلے۔خفیہ اداروں نے تحقیقات مکمل کرکے محکمہ خوراک، پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی نشاندہی کر دی۔ذرائع کے مطابق ملوث اہلکار لودھراں، اورکاڑہ، راجن پور،لاہور،وہاڑی، شیخوپورہ، قصور، جھنگ، نارروال،ساہیوال، منڈی بہاوالدین میں تعینات تھے۔ علاوہ ازیں خانیوال، مظفرگڑھ،رحیم یار خان،گجرات، اٹک،ملتان،ڈی جی خان،خوشاب اور اٹک کے اہلکار بھی گندم کی اسمگلنگ میں ملوث رہے ہیں۔ذرائع کاکہنا ہے کہ گندم،چاول،چینی سمیت دیگر اشیا سے لدے ٹرکوں کو بغیر روک ٹوک ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کی اجازت دی جاتی رہی، ملوث افسران ہر شہر سے ان ٹرکوں کو نکالنے میں سہولت کاری کرتے رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسمگلنگ میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب حکومت کو باضابطہ خط لکھ دیااورمراسلے میں ان افسران کے خلاف فوری طور پر محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق گندم اسمگلنگ میں پنجاب حکومت میں تعینات دو اسسٹنٹ کمشنر بھی ملوث نکلے،ان میں میاں چنوں میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر رمیز ظفر اور گوجرانوالہ میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر توصیف حسین شامل ہیں جن کے خلاف بھی جلد کارروائی شروع ہونے کا امکان ہے۔

Comments are closed.