عمران خان نے ٹویٹ نہیں، فوج کے خلاف دستاویزی فلم جاری کی : سینیٹر عرفان صدیقی
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ( ن) کے رہنماء اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کے لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کو 1971کے مشرقی پاکستان کے حالات جیسا قرار دینا اور یہ تاثر پیدا کرنا کہ ملک خدانخواستہ ایک اور سقوط ِڈھاکہ کی طرف بڑھ رہا ہے
، انتہائی قابل افسوس ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ ٹویٹ، عمران خان کے مصدقہ، آفیشل ایکس اکانٹ سے جاری کیا گیا ہے۔ یہ محض ٹویٹ نہیں بلکہ انتہائی محنت سے لکھے گئے سکرپٹ کے مطابق بنائی گئی مختصر تصویری فلم ہے ،جس کے لفظ لفظ سے فوج دشمنی ٹپک رہی ہے۔ اس فلم کے لئے جان بوجھ کر ایسی جھوٹی سچی تصویروں کا انتخاب کیا گیا ہے جو بنگلہ دیشی اوربھارتی میڈیا پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرتا رہتا ہے۔ اس دستاویزی فلم سے فوج کے بارے میں اْسی بغض کا اظہار ہوتا ہے، جو فوج کے بعض کرداروں کو میر جعفر اور میر صادق قرار دینے سے ہو رہا تھا۔ اب کچھ لوگ اس تصویری ٹویٹ کے بارے میں کھوکھلی اور بودی دلیلیں دے رہے ہیں، لیکن اْنہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ اْسی دن اڈیالہ جیل کے باہر، ہاتھ میں ایک کاغذ پکڑے ہوئے، عارف علوی کے ہمراہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمرایوب کی پریس ٹاک کو کیسے چھپایا جائے؟
جو چند لمحے پہلے خان صاحب سے مل کر آئے تھے اور جنہوں نے ہو بہو وہی باتیں کیں جو خان صاحب کے تصویری ٹویٹ میں کی گئیں تھیں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ اپنے آپ کو شیخ مجیب الرحمن کی طرح مقبول قرار دینا، اْس کی صفائیاں پیش کرنا، تمام تر الزامات فوج کے سر تھوپتے ہوئے یحییٰ خان کو مورد الزام ٹھہرانا، آج کے آرمی چیف کی تصویر لگا کر اْسے یحییٰ خان قرار دینا، اور ایک نئے سقوطِ ڈھاکہ کا ڈھول پیٹنا شاید ایک اور 9 مئی کے لئے فضا تیار کرنا ہے۔
Comments are closed.