گندم درآمد سکینڈل ،تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات میں بڑے بلنڈر کا انکشاف

اسلام آباد(آن لائن)گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارشات میں بڑے بلنڈر کا انکشاف ہوا ہے ،کمیٹی کی سفارش پر ایک ایسے آفیسر کو بھی معطل کر دیا گیا جو کہ گندم درآمد کرنے کے معاملے میں کسی طور پر بھی شامل نہیں تھا ،فوڈ کمشنر ون ڈاکٹر وسیم الحسن نے اپنی معطلی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا جس میں کہاگیا ہے کہ انہیں غلطی سے فوڈ کمشنر ٹولکھا گیا حالانکہ وہ فوڈ کمشنر ون تھے اور گندم کی درآمد ان کے دائرہ کار میں شامل نہیں تھی ان کی معطلی ختم کی جائے کیونکہ ان کا سارا کیرئیر داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات میں بڑے بڑے بلنڈر سامنے آرہے ہیں جو آفیسر گندم درآمد کرنے کے معاملے میں شامل ہی نہیں تھا اسے بھی معطل کردیا گیا ہے،سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل کی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر وزارت فوڈ سکیورٹی افسران کو شدید تحفظات ہیں، فوڈ کمشنر ون ڈاکٹر وسیم الحسن کو کمیٹی کی سفارشات پر معطل کیا گیا

،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے معطلی لیٹر میں سید وسیم الحسن کا عہدہ غلط درج کیا گیا ،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سید وسیم الحسن کو فوڈ کمشنر ون کی بجائے فوڈ کمشنر 2 لکھ دیا ،پاسکو اور گندم کے امور فوڈ کمشنر 2 کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں،سید وسیم الحسن کو 12 اکتوبر 2023 کو وزارت فوڈ سیکیورٹی میں او ایس ڈی بنایا گیا ،سید وسیم الحسن کو وزارت فوڈ سکیورٹی میں اپریل 2024 میں دوبارہ فوڈ کمشنر ون تعینات کیا گیا،بحیثیتِ فوڈ کمشنر سید وسیم الحسن کا گندم کی فصل کے امور کے ساتھ تعلق نہ تھا ،سید وسیم الحسن نے اپنی معطلی ختم کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا جس میں کہاگیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے میرے معطلی کے خط میں مجھے غلطی سے فوڈ کمشنر 2 لکھا گیا،بحیثیتِ فوڈ کمشنر ون میری زمہ داریوں میں مائینر کراپس یعنی دالین، سبزیاں وغیرہ شامل تھیں، خط میں مزید کہاگیا کہ بحیثیتِ فوڈ کمشنر ون میرا گندم کی درآمد کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا ،12 اکتوبر 2023 سے 19 مارچ 2024 تک میں وزارت میں بطور او ایس ڈی تعینات تھا ، میرے ساتھ گندم کی درآمد سے متعلقہ امور پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی،میری معطلی نے میرے 31 سالہ کیرئیر کو بری طرح سے متاثر کیاہے، دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث اس صورتحال نے میری صحت کو بے حد متاثر کیا ،یاد رہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارش پر سید وسیم الحسن سمیت چار افسران کو معطل کیا گیا تھا ،وفاقی حکومت نے سیکرٹری کابینہ کی سفارش پر غیر متعلقہ افسران معطل کر دیئے ۔

Comments are closed.