سائفر کے کنٹینٹ لیک کرنے پر مُلکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور قانون کا راستہ، تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی گرفتار

اسلام آباد: اسلام آباد پولیس نے 19 اگست کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری مورخہ ۱۵ اگست ۲۰۲۳ کو ایف آئی اے کی جانب سے شاہ محمودقریشی اور عمران خان کے خلاف سائفر کے مندرجات کو غلط رنگ دینے، ملکی سلامتی اداروں کے خلاف استعمال کرنے اور عوام کو بہکانے کے الزام پر عمل میں آئی۔ بطور وزیر خارجہ، شاہ محمود قریشی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ سائفر اور اس کے مندرجات کو سیکرٹ رکھیں۔ مگر انھوں نے اپنی پارٹی قیادت کے غیر جمہوری رویے اور مضموم سیاسی مقاصد کی خاطر، سائیفر کو استعمال کیا۔ شاہ صاحب کی اس حرکت سے نہ صرف ملک کے اندر انتشار پیدا ہوا بلکہ ہمارے سفارتکاروں پر دوسرے ممالک کے اعتبار کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ شاہ محمود قریشی نے اپنےحلف کے برخلاف عمران خان کے جھوٹے بیانیے کو مقدم جانتے ہوئے ملکی سلامتی کو داو پر لگایا اور ملکی سفارتی وقار نقصان پہنچایا۔ اِس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا کر مجرموں کو کڑی سزائیں دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں سیاستدان اور اہم عہدوں پر فائز افراد، غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں سے اجتناب کریں۔ ابھی تو یہ گرفتاری سایفر کے غلط استعمال پر ہوئی ۔۔ جبکہ اس کی ایک عدد کاپی کا گم ہونا اور اس کا غیر ملکی جریدے (The Intercept)تک پہنچنا بھی زیر تفتیش ہے۔

یاد رہے کہ خان صاحب نے سایفر کی ایک عدد کاپی کو گم کرنے کا اقرار بھی کیا ہوا ہے۔ سائفر کو گمانا اور اس کے مندرجات کو لیک کرنا ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سنگین جرم ہے ۔ عین ممکن ہے کہ یہ کیس بھی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی متعلقہ شکوں کے مطابق چلایا جائے۔

Comments are closed.