تھریٹ الرٹس کو خفیہ معلومات یا خفیہ دستاویز نہیں کہا جا سکتا،اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات پہنچانے پر اسلام آباد پولیس کے سزا یافتہ اے ایس آئی ظہور کی سزا معطلی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ،تحریری فیصلے میں کہاگیا ہے کہ فرانزک اینالسز رپورٹ کے مطابق اپیل کنندہ کے موبائل فون سے تھریٹ الرٹ رپورٹ کے میسجز ملے،نیکٹا اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری تھریٹ الرٹس کو خفیہ معلومات یا خفیہ دستاویز نہیں کہا جا سکتا، مختصر مدت کی سزا اور اپیل پر جلد فیصلہ نا ہونے کے امکان کے باعث بھی اپیل کنندہ سزا معطلی کا حقدار ہے، ٹرائل کورٹ کی جانب سے اے ایس آئی ظہور کو دی گئی تین سال قید کی سزا معطل کی جاری ہے، اپیل کنندہ دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جو کیش کی صورت میں بھی جمع کرائی جا سکتی ہے، اپیل کنندہ اپنی اپیل پر حتمی فیصلے تک ہر تاریخ سماعت پر عدالت میں پیش ہو، اے ایس آئی ظہور کے خلاف 13 دسمبر 2021 کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے 18 مئی 2024 کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

Comments are closed.