مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی کے حوالے درخواستیں قابل سماعت قرار

اسلام آباد( آن لائن)الیکشن کمیشن نے الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی کے حوالے درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے جمعرات کو طلب کر لیا. منگل کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وفاقی دارالحکومت کے الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی کے حوالے سے لیگی اراکین اسمبلی کے پٹیشنز کی سماعت کی اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا نے کمیشن کو بتایا کہ کہ اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل الیکشن ایکٹ کے مطابق کام نہیں کررہا ہے اور ہمارے موکل کو فیر ٹرائل کا موقعہ نہیں دیا جارہا ہے انہیں نے کہا کہ کہ ہائی کورٹ کے ججز الیکشن ٹربیونل کو بھی عدالت کی طرح چلا رہے ہیں اور میرے موکل کو جرمانہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر کسی کا حلف نامہ بھی جھوٹا ثابت ہوا تو اس کو یہاں سے جیل بھیجا جائے گا انہوں نے کہا کہ گذشتہ سماعت پت تیسرے نمبر کے امیدوار کے فارم 45 میچ کرلیے گئے جوکہ درست طریقہ کار نہیں تھا

انہوں نے کہا کہ کہ پٹیشن قبول کرنے سے پہلے نوٹسز بھی نہیں کئے گئے اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم اعتراضات یہاں پر اٹھائے جارہے ہیں وہ ٹربیونل کے سامنے کیوں نہیں اٹھائے گئے جس پر وکیل نے کہا کہ کہ ہمیں یہ خطرہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل جلد بازی میں پٹیشن کو دیکھ رہی ہے اور طریقہ کار کے مطابق نہیں چل رہی ہے انہوں نے کہا کہ کہ الیکشن ٹریبونلز ہمارے ساتھ منصفانہ طریقہ نہیں اپنا رہی ہے ہمارے پٹیشنز کو کسی بھی صوبے کے الیکشن ٹریبونلز میں ٹرانسفر کیا جائے اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کہ کیا الیکشن ٹربیونل آپ لوگوں کے ساتھ متعصب ہے جس پر وکیل نے کہا کہ جس تیزی سے یہ پٹیشن چلائی جارہی ہے اس سے یہی تاثر مل رہا ہے انہوں نے کہا کہ کہ الیکشن ٹربیونل مروجہ الیکشن ایکٹ کے تحت کام کرے گا وہ اپنا طریقہ کار نہیں بنا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کہ الیکشن ٹربیونل کے طریقہ کار سے خطرہ محسوس ہورہا ہے اور جو پٹیشنز جمع کرائی گئی ہیں وہ بھی مقررہ مدت کے بعد جمع کرائی گئی ہیں اور 13 روز کے بعد جمع کرائی گئی تھی جس پر ہم نے اعتراض کیا تھا مگر ہمارے اعتراض کو تسلیم نہیں کیا گیا انہوں نے کمیشن سے استدعا کی کہ تمام پٹیشنز کو معطل کیا جائے اور ٹربیونل سے کیسز منتقل کئے جائیں بعدازاں الیکشن کمیشن نے پٹیشنز قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کل جمعرات تک سماعت ملتوی کردی…

Comments are closed.