قیدتنہائی کے الزامات مسترد‘وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات اور 28ستمبر2023ء سے اب تک کی ملاقاتوں کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے بیان کی تردید کر تے ہوئے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔رپورٹ نیب ترمیم کیس میں جمع کرائی گئی ہے۔حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے موٴقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں، اضافی دستاویزات کے ساتھ سابق وزیراعظم کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔وفاقی حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرواتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا موقف بھی غلط ہے۔حکومت نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے تو بانی پی ٹی کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے، عمران خان کے جیل میں سہولیات نہ ملنے اور ملاقاتیں نہ کرانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل میں دستیاب سہولیات اور ہونے والی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کر ا دی گئی ہیں

، یہ تفصیلات ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ محمد شفقت عباسی نے پیش کرتے ہوئے ان سہولیات کی تصدیق کیلئے معائنہ کی بھی پیشکش کر دی ہے ۔سپریم کورٹ میں پیش کرائی جانے والی دستاویزات میں بانی پی ٹی آئی کو دیئے گئے روم کولر،ایل ای ڈی، سٹڈی ٹیبل ،کرسی، واک کیلئے خصوصی گیلری کی فراہمی، الگ کچن، ضرورت کے مطابق کتابوں،ورزش کی مشینوں کی تفصیلات بمعہ تصاویر فراہم کی گئی ہیں۔اس ضمن میں دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 28ستمبر 2023ء کو عمران خان سے بابر اعوان، شیرافضل مروت،سلمان اکرم راجہ، علی ظفر،نعیم حیدر پنجوتھا اور انتظار احمد پنجوتھا نے ملاقاتیں کیں۔3اکتوبر کوعلیمہ خان، عظمی خان، بشریٰ بی بی کی ملاقات ہوئی۔5اکتوبر کو حامد خان، شاداب جعفری،شعیب شاہین اور عمیرخان نیازی نے ملاقاتیں کیں۔10اکتوبر کو پھر علیمہ خان، عظمیٰ خان ، بشریٰ بی بی اور نورین نیازی کی ملاقات ہوئی۔12اکتوبر کو گوہر علی، علی ظفر،عمیرخان نیازی اورسردار عاشر نے ملاقات کی۔12اکتوبر کو ہی عاصم یوسف نے بھی ملاقات کی۔ 17اکتوبر کو ایک بار پھرعلیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی اور نورین نیازی نے ملاقات کی۔19اکتوبر کو سلمان اکرم راجہ، عمیر خان نیازی اورشعیب شاہین کی ملاقات ہوئی۔اسی روز انتظار حسین پنجوتھااور شیراز رانجھا بھی ملے۔24اکتوبر کو ایک بار پھرعلیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی اور نورین نیازی کی ملاقات ہوئی۔25اکتوبر کوشیرافضل مروت ایڈووکیٹ ،عمران خان سے ملے۔26اکتوبرکو ان کے وکلا لطیف خان کھوسہ، عمیرخان نیازی،بیرسٹرگوہر علی اور نعیم حیدر پنجوتھا کی ایک اور ملاقات ہوئی۔31اکتوبر2023ء کو ان کے وکلا سکندر ذوالقرنین،عمیرخان نیازی، تیمور التر، آفتاب باجوہ اور عثمان گل ملے جبکہ اسی روز اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی اور نورین نیازی کی بھی ایک اور ملاقات ہوئی۔درخواست میں نومبر2023ء کی ملاقاتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2نومبر کو وکلا حامد خان،عمیر خان نیازی اور نعیم حیدرپنجوتھا سمیت ڈاکٹرفیصل سلطان نے ملاقات کی۔7نومبر کو وکلا بیرسٹر گوہر علی،عمیرخان نیازی،تیمو التر،احمد مسر اور سلمان صفدر نے ملاقاتیں کیں۔اس کے علاوہ اسی روز سکندر ذوالقرنین، عمیرخان نیازی،تیمورالتر، عثمان ریاض گل،سلمان صفدر،فائزہ اسد اوراحمد مسر نے بھی ملاقات کی جبکہ اسی روز اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی ، نورین نیازی اور قاسم زمان خان نے بھی ملاقات کی۔10نومبر کو وکلا عمیرخان نیازی، برہان معظم،شعیب شاہین ، شیر افضل مروت کے بعد ایک بار پھر عمیرخان نیازی، بیرسٹرگوہر علی اور علی ظفرنے ملاقات کی۔21نومبر کو وکلاء بیرسٹر گوہر علی، علی ظفر،عمیرخان نیازی،شعیب شاہین اور شیرافضل مروت نے ملاقات کی۔23نومبر کو عمیرخان نیازی، حامد خان، ابوذر غفاری اور شاداب جعفری بانی پی ٹی آئی سے ملے۔28نومبرکو اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی اور نورین نیازی کی ایک اور ملاقات ہوئی۔جبکہ اسی روز وکلابھی ملے جن میں بیرسٹر گوہر علی، علی ظفر،عمیرخان نیازی،شیرافضل مروت اور شعیب شاہین شامل تھے۔30نومبر2023ء کو وکلا بیرسٹر گوہر علی،علی ظفر،عمیرخان نیازی،احمد اویس اور شعیب شاہین کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرعاصم یوسف نے بھی ملاقات کی۔2دسمبر2023ء کو ان کے اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی ،نورین نیازی اور قاسم زمان خان نے ملاقات کی۔اسی روز وکلا علی اعجاز بٹر،انتظار حسین پنجوتھا اورنعیم پنجوتھا بھی ملے۔5دسمبر کو بھی اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی اور سہیل امیر خان کے ساتھ ساتھ وکلا انتظار حسین پنجوتھا،عمیرخان نیازی،بیرسٹر گوہر علی اور شیر افضل مروت نے بھی ملاقات کی۔7دسمبر کو بانی پی ٹی آئی سے وکلا بیرسٹر گوہر علی، عظیم اللہ، علی ظفر، سلمان اکرم راجہ اور شعیب شاہین نے ملاقات کی۔12دسمبر کو وکلانعیم اللہ، انتظار حسین پنجوتھا،شیر افضل مروت اور عمیرخان نیازی نے ملاقات کی۔19دسمبر کو ایک بار پھر اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، بشریٰ بی بی اورنورین نیازی کے ساتھ ساتھ اسی روز وکلا حامد خان ،قاضی محمد انور،انتظار حسین پنجوتھا اورشیرافضل مروت نے ملاقات کی۔21دسمبر کو وکلا انتظار حسین پنجوتھا،عمیرخان نیازی،شعیب شاہین اور شیر افضل مروت نے ملاقات کی۔26دسمبر کو وکلا انتظارحسین پنجوتھا،عمیرخان نیازی،شعیب شاہین اور سراج احمد ملے۔28دسمبر کو بیرسٹر گوہر علی،عمیرخان نیازی اور احمد اویس نے ملاقات کی۔ 30دسمبر کو علیمہ خان، عظمیٰ خان، شہریزام خان کی ملاقات ہوئی۔اسی روز وکیل شیرازاحمد رانجھا بھی ملے۔جنوری 2024ء کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 2جنوری کو بیرسٹر گوہر علی،3جنوری کو بھی بیرسٹر گوہر علی،4جنوری کو انتظار حسین پنجوتھا،عمیرخان نیازی،شعیب شاہین اورشیر افضل مروت،6جنوری کو بیرسٹر گوہر علی،9جنوری کو حامدخان،18جنوری کو بیرسٹر گوہر علی،عمیر نیازی،شیرافضل مروت، قاضی محمد انور اوررفیق احمدنیازی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔25جنوری کو نیاز اللہ نیازی،27جنوری کو علی بخاری اور عثمان ریاض گل نے ملاقات کی۔ بعدازاں یکم فروری 2024ء کو وکلاء خالد یوسف اور عرفان نیازی ،6فروری کو وکیل محمدعلی خان سیف،سیاستدان راجہ ناصرمحموداور اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، شہریزام خان اورنورین خان نے ملاقات کی۔12فروری کو محمد علی خان سیف اور سیاستدان جنید اکبر نے ملاقات کی۔13فروری کو سیاستدانوں رؤف حسن اورچوہدری افتخار رسول گھمن سمیت اہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان نے ملاقات کی۔اسی روز وکلا بیرسٹر گوہر علی،عمیرخان نیازی، علی ظفر اور حامد خان بھی بانی پی ٹی آئی سے ملے جبکہ اسی روز وکلا کا ایک اور وفد بھی ملاجس میں لطیف خان کھوسہ،خرم لطیف کھوسہ،شہباز کھوسہ،بابر اعوان اورسوزیان جہاں خان موجود تھے۔15فروری کو سیاستدان اسد قیصر نے ملاقات کی جبکہ وکلا بیرسٹر گوہر علی،عمیرخان نیازی،علی ظفر،محمد علی سیف،شیرافضل مروت،سلمان اکرم راجہ اور سلمان صفدر نے بھی ملاقات کی۔16فروری کو سیاستدانوں علی محمد خان اورعامر ڈوگر کے ساتھ ساتھ وکیل سیاستدان لطیف خان کھوسہ نے بھی ملاقات کی۔20فروری کو ایک بار پھراہل خانہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان، عبدالولی خان اور قاسم زمان خان نے ملاقات کی۔اسی روز وکلا کا بھاری بھرکم وفد بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاجس میں بیرسٹر گوہر علی،عمیرخان نیازی، علی ظفر،محمد علی سیف، شعیب شاہین، قاضی محمد انور،سلمان صفدر اور حامد خان شامل تھے۔22فروری کو وکلا سید علی بخاری،جواد اصغر،احمداویس، شاداب جعفری،علی ظفر اور عمیر نیاز ی نے ملاقات کی۔27فروری کوسیاستدانوں خواجہ فاروق احمد،رؤف حسن ، کنول شوزب،تیمور سلیم،مشتاق احمد غنی اوروکلا نیاز اللہ نیازی، شیرافضل مروت،عمیرنیازی اور حامد خان نے ملاقات کی۔اسی روز سیاستدان اسد قیصر اور شاہ فرمان نے بھی ملاقات کی۔ 29 فروری 2024ء کوسیاستدان خالد شفیق ، اشتیاق احمدعلی عمران ،محمد رضوان سمیت وکلاء انتظار حسین پنجوتھا،میاں محمد عمر،شعیب شاہین اور قاضی محمد انور نے بھی ملاقات کی۔بعدازاں 5مارچ کو علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان،اور قاسم زمان خان کے ساتھ ساتھ وکیل عمیرخان نیازی نے بھی ملاقات کی۔اسی روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور سابق وزیراعلیٰ محمد خالد خورشید خان نے بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی جبکہ اسی روز وکیل شیر افضل مروت کے ساتھ ساتھ دیگر سیاستدانوں محمد عاطف،عون عباس، جمال خان،شہریار آفریدی،فیض الرحمان،شاندانہ گلزاراورشہرام خان نے ملاقات کی۔7مارچ کو وکلاء نعیم پنجوتھا،شعیب شاہین،شیرافضل مروت،گوہر علی، عمیرخان نیازی اور شیراز رانجھا نے ملاقات کی۔16مارچ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور،21مارچ کو وکلا جواد اصغر، گوہر علی اور عمیرخان نیازی،26مارچ کو سیاستدانوں راجہ ناصر عباس،سید احمد اقبال،نورالحق قادری،اسد عباس شاہ،عبیدالرحمان،محمد اقبال خان،وقار احمد قاضی،شاندانہ گلزار،فرخ جمال آفریدی اورشہریار آفریدی نے ملاقات کی۔28مارچ2024ء کو سیاستدانوں اوروکلا کی کی ایک بڑی تعداد نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی جن میں ندیم افضل ،سردار لطیف کھوسہ،ملک عامر ڈوگر،بیرسٹرگوہر علی،شیرافضل مروت،عمیرخان نیازی،سید علی بخاری،علی محمد خان،حافظ فرحت،نوید انجم ممتاز،فیصل جاوید،سالارخان کاکڑ،سراج احمد ، ساجدہ بیگم،سردار اظہر طارق،خالد مسعود،انتظار حسین پنجوتھا اور شعیب شاہین شامل تھے۔یکم اپریل 2024ء کو بانی پی ٹی آئی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور،2اپریل کوعلی بخاری،شعیب شاہین اور شوکت بسرا،4اپریل کو سیاستدان سیف اللہ سرور،عمرایوب،سید شبلی فراز،شاہ فرمان، عون عباس،اسد قیصر اور رؤف حسن نے ملاقات کی۔9اپریل کو وکلا ہارون نواز،شعیب شاہین،انتظار پنجوتھا،نعیم پنجوتھا اورسلمان اکرم راجہ نے ملاقات کی۔10اپریل کو اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سب جیل سے لاکر ملاقات کرائی گئی۔بعد ازاں16اپریل کوبھی بشری بی بی کی ملاقات کرائی گئی جبکہ اسی روز ہمشیرگان حلیمہ خان،عظمیٰ خان اور نورین نیازی بھی ہمراہ تھیں۔اسی روز وکلا ضمیر احمد،بیرسٹر گوہر علی،انتظار حسین پنجوتھا،شیر افضل مروت، قاضی محمد انور اورعلی ظفر نے بھی ملاقات کی۔18اپریل کوسیاستدانوں مزمل اسلم،رؤف حسن،سید شبلی فراز،حامد رضا،عاطف اور نعیم پنجوتھا نے بھی ملاقات کی۔20اپریل کو ڈاکٹر ، عاصم یوسف،23اپریل کو سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ،24اپریل کو وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور،25اپریل کو سیاستدانوں رؤف حسن،احمد خان ،عمر ایوب،وقاص اکرم،محمد خالد خورشید اور شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔30اپریل کووزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور،اسی روز اہلیہ بشری بی بی،اور ہمشیرگان حلیمہ خان، عظمیٰ خان ،نورین نیازی سمیت کزن قاسم زمان کی ملاقات کرائی گئی۔اسی روز وکلاء سلمان اکرم راجہ،شیرافضل مروت،ابوذر سلمان، شعیب شاہین،بیرسٹر گوہر علی اور وقار احمد قاضی نے بھی ملاقات کی۔2مئی 2024ء کو سیاستدانوں رؤف حسن،کنول شوزب،اسد قیصر، عون عباس،سید شبلی فرازاور حلیم عادل شیخ نے ملاقات کی۔7مئی کو سب جیل بنی گالہ سے اہلیہ بشریٰ بی بی کو لاکر ملاقات کرائی گئی، اس موقع پر ہمشیرگان حلیمہ خان، عظمی خان اور نورین نیازی بھی موجود تھیں۔اسی روز وکلا ڈاکٹر بابر اعوان،سلمان اکرم راجہ،شعیب شاہین،بیرسٹر گوہر علی،انتظار پنجوتھا اور علی اعجاز بٹر نے بھی ملاقات کی۔9مئی کو سیاستدان عمر ایوب ،سابق وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم،سمیت دیگر سیاستدانوں سردار اظہر طارق،رؤف حسن،سابق صدر عارف علوی اور سیاستدان عامر ڈوگر نے ملاقات کی۔14مئی کو بشریٰ بی بی،15مئی کو خواجہ حارث اور انتظار ؛پنجوتھا،16مئی کو شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرفیصل سلطان،پمز کے ڈاکٹر ثمن وقار اور عبیداللہ خان نے ملاقات کی۔اسی روز مختلف سیاستدان بھی ملے جن میں اعظم سواتی،ملک تیمور مسعود،اعجاز حسین منہاس،محمد احمد چٹھہ،سید شبلی فراز اور رؤف حسن شامل تھے۔21مئی کو سنٹرل جیل پنڈی سے اہلیہ بشریٰ بی بی کو لاکر ملاقات کرائی گئی ،اس موقع پر ہمشیرگان علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان بھی موجود تھیں۔اسی روز وکلاء بیرسٹر گوہر علی،انتظار پنجوتھا،عزیز کرامت بھنڈاری،علی عزیز بھنڈاری،چنگیز احمد خان اور ولید اقبال نے ملاقات کی۔23مئی کو سیاستدانوں رؤف حسن،طاہر صادق،عمرایوب،سید فردوس شمیم،داؤد شاہ اور شاندانہ گلزار نے ملاقات کی۔26مئی کو وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور اور بعدازاں 30مئی کو سیاستدان رؤف حسن،محمد محبوب سلطان،سید شبلی فراز، احمد خان،وقاص اکرم اور صاحبزادہ حامد رضا نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔

Comments are closed.