چوہدری عدنان قتل کیس:ن لیگ سینیٹر چوہدری تنویر کی درخواست ضمانت خارج

راولپنڈی (آن لائن)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی رانا سہیل نے سابق رکن صوبائی اسمبلی و تحریک انصاف کے سابق رہنما چوہدری عدنا ن قتل کیس میں نامزد مسلم لیگی رہنما سینیٹر چوہدری تنویرکی درخواست ضمانت خارج کر تے ہوئے گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ ان کے 2 بیٹوں اور بھائی کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر دی ہیں عدالت نے تمام ملزمان کی عبوری ضمانتوں کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد ایک روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھاگزشتہ روز فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر چوہدری تنویر اپنے بیٹوں رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری اور اسامہ چوہدری کے علاوہ اپنے بھائی چوہدری چنگیز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر عدالت نے ملزمان کی حاضری کے بعد انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی تھی تاہم بعد ازاں ملزمان کی عدم موجودگی میں سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے چوہدری تنویرکی ضمانت مسترد کر دی جبکہ ان کے 2بیٹوں اور بھائی کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر دیں اس مقدمہ میں تمام ملزمان عبوری ضمانتوں پر تھے ملزمان پر سابق پارلیمانی سیکریٹری پنجاب چوہدری عدنان کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام ہے قتل کی تفتیش کے دوران ایک ٹارگٹ کلر کو پولیس نے کراچی سے گرفتار کرکے راولپنڈی منتقل کیا تھا گرفتار ملزم نے اپنے بیان میں چوہدری تنویر خان سمیت دیگر ملزمان کی نشاندہی کی تھی تاہم چوہدری تنویر نے اپنے بھائی چوہدری چنگیز اور بیٹوں بیرسٹر دانیال چوہدری وچوہدری اسامہ کے ملوث ہونے کی تردید کی تھی یاد رہے کہ تھانہ سول لائنز پولیس نے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر ان کے چوہدری دانیال، اسامہ تنویر اور بھائی چوہدری چنگیز سمیت 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا یہ مقدمہ مقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے تعزیرات پاکستان کی دفعات302/34، 109 اور 201کے تحت درج مقدمہ نمبر 253کے مطابق چوہدری عدنان اپنی اسلام آباد نمبر کی پراڈو گاڑی نمبر سی جے100کو خود ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ پچھلی سیٹ پر فضل ربی اور چوہدری ظہیر خان کے علاوہ پچھلی لینڈ کروزر نمبر ایس ٹی سی 4677 پر زاہد حفیظ اور احتشام سخاوت بھی موجود تھے عسکری 13 میں ہاوٴسنگ کے دفتر سے واپسی پر جناح پارک کے قریب اشارے پر شلوار قمیص میں ملبوث 2 نامعلوم افراد نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے چوہدری عدنان پر اس وقت اندھادھند فائرنگ کر دی جب گاڑی اشارے پر رکی ہوئی تھی جس سے گولیاں مقتول کے چہرے اور سینے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر لگیں جبکہ حملہ آور سڑک کے دوسری جانب موجود موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے مقدمہ کے متن کے مطابق مقتول کی سیاسی معاملات اور سرکاری زمین واگزار کرانے پرچوہدری تنویر، چوہدری چنگیز خان، دانیال چوہدری اور اسامہ تنویر سے رنجش کے علاوہ کاروباری معاملات میں لقمان کامل سے زمین کی خریدوفروخت کے مقدمات چل رہے ہیں جس پر چوہدری عدنان اکثر کہتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے جان کا خطرہ ہے اور مجھے کچھ ہوا تو یہ افراد ذمہ دار ہوں گے رواں سال 12 فروری کی رات تھانہ سول لائن کے علاقے پولیس لائنز کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عدنان چوہدری جان کی بازی ہارگئے تھے۔

Comments are closed.