قومی اسمبلی کا اجلاس ،18 ہزار ارب کے لگ بھگ حجم کا بجٹ پیش کیا جائیگا
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2024-25 کا بجٹ بدھ کو قومی اسمبلی میں پیش کرے گی ،قومی اسمبلی کا اجلاس شام 4 بجے سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوگا ،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وفاقی بجٹ پیش کریں گے ،حکومتی ذرائع کے مطابق 18 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جس کی اصولی منظوری آج بدھ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں دی جائے گی ، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 12.9 ٹریلین روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے جبکہ بجٹ میں سود اور قرضوں کی ادائیگیوں کا تخمینہ 9.5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، توانائی کے شعبے میں سبسڈیز کیلئے 800 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے جبکہ وفاقی ٹیکس ریونیو 12.9 ٹریلین روپے کے لگ بھگ مقرر کئے جانے کی تجویز ہے ،نان ٹیکس ریونیو کا ابتدائی تخمینہ 2100 ارب روپے لگایا گیا ہے،ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1050 ارب روپے سے زائد وصول کرنے کا ہدف متوقع ہے، پنشن اصلاحات کے تحت نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کیلئے رضاکارانہ کنٹری بیوٹری پنشن سسٹم متعارف کروانے کا امکان ہے
، ریٹائر ہونے والے ملازمین کو تاحیات کی بجائے 20 سال تک پنشن دی جائے گی، ملازمین کی فیملی پنشن کی مدت 10 تا 15 سال اور بیٹی کی پنشن ختم کرنے اور کموٹیشن کم کیے جانے کا بھی امکان ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے،جی ایس ٹی کی معیاری شرح میں ایک فیصد اضافہ متوقع ہے،غیر ضروری ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سمیت دیگر نئے ٹیکسز عائد کیے جانے کا امکان ہے،پٹرولیم مصنوعات پر5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے سے تقریباً چھ سو ارب روپے کا ریونیو متوقع ہے،آئندہ مالی سال کے لیے فنانس بل میں تمام غیر ضروری سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے سے تقریباً ساڑھے پانچ سو ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے،ذرائع کے مطابق سات سو ارب روپے مزید حاصل کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں،اضافی ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح مزید ایک فیصد بڑھنے کا امکان ہے، آئندہ سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، زرعی اشیا، بیجوں، کھاد، ٹریکٹر اور دیگر آلات پر مکمل سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، خوراک، ادویات، اسٹیشنری پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، و فاقی بجٹ 2024-25 میں ایس ایم ایز کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ودہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس چھوٹ ختم، کسٹم ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کی تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ۔
Comments are closed.