پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے 20 لاکھ سے زائد عازمین نے حج کرلیا

مکہ مکرمہ(آن لائن) پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے 20 لاکھ سے زائد عازمین حج نے میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ اداکرکے حج کی سعادت حاصل کر لی،اسی میدان میں وہ سارادن خطبہ سنتے رہے اور ظہر ، عصر کی نمازیں اکٹھے ادا کیں۔بعدازاں حاجی مزدلفہ روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھے ادا کیں۔حج کے رکن اعظم کی ادائیگی کے لیے لاکھوں عازمین میدان عرفات میں موجود تھے جہاں انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کیں اورخطبہ حج سنا جو کہ مسجد نمرہ میں دیا گیا۔ مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ماہر بن حمد المعیقلی نے خطبہ حج دیا جسے اردو سمیت 50 زبانوں میں نشر کیا گیا۔حجاج سارا دن میدان عرفات میں عبادت اور دعائیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور آہ و زاری کرتے رہے۔ وقوف عرفہ کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوگئے اور وہاں مغرب اور عشا کی نماز اکٹھی ادا کیں۔ مزدلفہ میں حجاج کرام رمی جمرات کے لیے کنکریاں جمع کرتے رہے اورآج اتوار کی صبح حجاج کرام واپس منیٰ روانہ ہوں گے اور رمی جمرات کریں گے جس کے بعد قربانی کی جائے گی اور عازمین سرمنڈواکر احرام کھول دیں گے جس کے ساتھ ہی عازمین کا فریضہ حج مکمل ہو جائے گا۔اس موقع پر لاکھوں حجاج کرام مشعرعرفات کے جبل رحمت پر پہنچنے کے بعد اللہ سے ہاتھ اٹھا کر دعاؤں میں مصروف رہے۔”لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمة لک والملک، لا شریک لک” کی تلبیہ کے ساتھ حجاج کرام صبح منیٰ سے عرفات کی جانب عازم سفر ہوئے۔دن بھر حجاج کرام جبل رحمت پر اللہ سے گڑ گڑا دعاؤں میں گذاریں منیٰ سے عرفات کی طرف سفرکرتے ہوئے ضیوف الرحمان اللہ کے پاک گھر کی زیارت کا قصد لیے اپنی تمناؤں، رحمت اور بخشش ومغفرت کے لیے دعائیں کرتے رہے ۔ عرفات کی فضا سفید احرام میں ملبوس ضیوف الرحمان کی دعاؤںِ التجاؤں، تلبیہ اور تسبیح وتہلیل سے گونجتی رہی ۔ہر طرف اللہ تعالیٰ کے حقیقی عشاق آنکھوں میں آنسوں، لبوں پر حمد وثنا، زبان پر دعائیں اور ہاتھ پروردگار کی رحمت کی طلب میں آسمانوں کی طرف بلند کرتے رہے۔کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کے ساتھ ہی سعودی حکام نے تمام زائرین پر زور دیا ہے کہ وہ دھوپ اور گرمی سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال کریں اور کافی مقدار میں پانی پییں۔سعودی وزارت صحت نے حجاج کرام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے 34,000 سے زائد ڈاکٹروں، نرسوں، فارماسسٹوں اور انتظامی عملے کو متحرک کیا ہے۔ سات ائیر ایمبولینسس اور 730 ایمبولینسز بھی دستیاب ہیں جو عازمین کو ضرورت پڑنے پر طبی امداد فراہم کر تی رہیں۔

Comments are closed.