اٹک میں وکلا کے قتل کے واقعات افسوسناک ہیں، وفاقی وزیر قانون
اٹک (آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اٹک میں وکلا کے قتل کے واقعات افسوسناک ہیں ۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اہم ا قدامات کرنے ہوں گے ۔ جمہوریت کی بقا ، آئین کے تحفظ اور بحالی کے لئے وکلا کا کردار ہمیشہ اہم رہا ، وکلا قتل کا کیس انسداد دہشتگردی ایکٹ اور لائرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت چلایا جائے گا ۔ وفاقی وزیر نے جاں بحق وکلا کے لئے بیس ملین فی کس امدادی رقوم کا بھی اعلان کیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قتل ہونے والے وکلا کے لئے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام وکلا برادری متاثر ہ خاندا نوں کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں سیکیورٹی اقدامات پر نظر ثانی اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلی مریم نواز نے وکلا کے قتل کا فوری نوٹس لیتے ہوے اہم اقدامات کی ہدایات جاری کیں جس کے نتیجے میں قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا ٓ ۔ انہوں نے کہا یہ ہمارے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے ۔ یہ ایک بہیمانہ قتل ہے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ لائرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت قتل کے مقدمات چلائے جائیں گے۔ انہوں نے قتل ہونے والے وکلا کے لئے بیس ملین فی کس امدادی رقوم دینے کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا وکلا کا کردار معاشرے میں انتہائی اہم ہے ۔ وکلا کے ذاتی بے شمار مسائل ہوتے ہیں جو جوں کے توں پڑے رہتے ہیں ہمیں اس کے لئے بھی کوئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک کرنا بھی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا جمہوریت کی بقا ، آئین کے تحفظ کے لئے وکلا کی قربانیاں قابل قدرہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں وکلا کو فتح کرنے ا نھیں دبانے اور انکی تذلیل کی جو کوشش کی گئی اسکا نتیجہ سب نے دیکھ لیا ۔ انہوں نے کہا ملک ، جمہوریت اور عدلیہ پر جب بھی مشکل وقت آیا وکلا نے قابل قدر کردار ادا کیا ۔ ہمین حق کے ان سپاہیوں کے خلاف کوئی منفی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا وزیر اعلی خواتین وکلا کے لئے کچھ منفرد کرنے کی خواہاں ہیں اس حوالے سے جلد ایک جامع بہبود کا پروگرام سامنے لایا جائے گا ۔
Comments are closed.