قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج اور ہنگامہ ‘اراکین کی نعرے بازی جاری

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج اور ہنگامہ جاری رہا،اراکین کی نعرے بازی جاری،ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے اورخیبر پختونخوا آپریشن نامنظور کے بھی نعرے لگائے گئے۔خواجہ آصف کو احتجاج کی وجہ سے خاموش ہونا پڑا اپوزیشن اراکین نشستوں سے باہر نکل آئے نعرے بازی اور احتجاج جاری رکھا۔خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا ہنگامہ اور احتجاج کیا گیا جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں بولوں گا بلیک میل نہیں ہوں گا۔ڈپٹی سپیکرنے کہا کہ میں بھی بلیک میل نہیں ہونگا۔جمشید دستی بولے یہ بدمعاشی نہیں چلنے دینگے۔ خواجہ آصف بھی سپیکر ڈائس کے سامنے پہنچ گئے اور کہا کہ یہ ہمیں گالیاں نکال رہے ہیں‘ابھی کل والا گالیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا یہ آج پھر گالیاں نکال رہے ہیں۔ اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی جاری رہی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک کسی ایک اکثریت کا نہیں سب کا ہے ‘ آئین اقلیتوں کو تحفظ دیتا ہے ‘لوگوں کو سوات سرگودھا میں قتل کیا جاتا ہے ‘پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں تو اپوزیشن احتجاج کرتی ہے‘ اقلیتوں کے معاملے پر قوم کا اتفاق اتحاد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر خون بہانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا ‘توہین مذہب کے نام پر قتل ہورہے ہیں ‘یہ ایوان اقلیتوں سے محبت کا اظہار کرے‘یہاں ہم قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں‘یہ ملک صرف اکثریت کا ملک نہیں ہے، اقلیتوں کا بھی ہیُمذہب کے نام ہر خون بہانے کی اجازت ہمارا دین نہیں دیتا‘آج تک جو قتل ہوئے ہیں ان پہ توہین ثابت نہیں ہوتی۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اپنی ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لیے توہین کا الزام لگایا جاتا ہے‘ایپکس کمیٹی آج سے پانچ چھ سال پہلے وجود میں آئی‘ہم عزم استحکام آپریشن کے حوالہ سے معاملہ پارلیمنٹ میں لانا چاہتے ہیں‘اس کی منظوری کابینہ سے بھی لی جائے گی یہ لوگ اپنی ذاتی سیاست کر رہے ہیں‘یہ آج بھی نو مئی والی سیاست کر رہے ہیں‘یہ گالی کی سیاست کر رہے ہیں‘یہ فوج کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، شہیدوں کے خلاف بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے ساتھ ہیں نہ آئین و ایوان کے ساتھ‘یہ اپنے مفادات کے ساتھ ہیں‘یہ آج اپنا چہرہ دکھا رہے ہیں۔یہ ایوان میں گالیاں دیتے اور ایوان کی تذلیل کرتے ہیں ‘یہ پاک فوج اور اس کے شہداء کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کوئی شرم ہوتی ہے حیاء ہوتی ہے اور غیرت ہوتی ہے۔

Comments are closed.