معاشرے میں منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے مستقل خطرات کو مشترکہ اور جامع اقدامات سے نمٹنا ہو گا

اسلام آباد(آن لائن )وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی نے کہا ہے کہ معاشرے میں منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے مستقل خطرات کو مشترکہ اور جامع اقدامات سے نمٹنا ہو گا‘بطور قوم شانہ بشانہ ہونا ضروری ورنہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ منشیات کے استعمال اور سمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر پیغام میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے منشیات کے مضر اثرات اور اس سے وابستہ جرائم، تشدد۔ خرابی صحت اور پیداواری صلاحیت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے۔ حکومت اس چیلنج کی شدت کو تسلیم کرتے ہوئے نیشنل اینٹی نارکوٹکس پالیسی کے تحت منشیات کے استعمال اور سمگلنگ کے خلاف جامع اقدامات کر رہی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پالیسی میں منشیات کی طلب اور فراہمی میں کمی اور بین الاقوامی تعاون شامل ہے۔ معاشرے پر منشیات کے استعمال کے تباہ کن اثرات کے پیشِ نظر اس جنگ کو قومی ترجیح بنانا ناگزیر ہے۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ منشیات کے استعمال اور سمگلنگ کے خلاف یہ جنگ اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتی جب تک ہم بحیثیت قوم سب اس میں شانہ بشانہ شامل نہ ہوں۔ پاکستان کو منشیات سے پاک، ایک صحت مند معاشرہ بنانے کے عظیم مقصد کے لئے مشترکہ کوششں کرنا ہوں گی۔ محسن نقوی نے کہا کہ منشیات کے استعمال کی لہر کو روکنے کے لیے آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت اور قانون کے نفاذ کو ترجیح دینا ہے۔ آئیے منشیات کے استعمال اور سمگلنگ کے خلاف ہم ایک صحت مند اور منشیات سے پاک پاکستان کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کریں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اور متعلقہ ادارے منشیات کی خرید و فروخت اور سمگلنگ روکنے کے بھرپور کام کر رہے ہیں۔اے این ایف کے افسران اور جوانوں نے منشیات سے پاک پاکستان مشن میں اپنی قیمتی جانیں قربان کی ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ اے این ایف کے شہداء کو سلام‘ آج ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ منشیات سے پاک معاشرہ ہمارے بچوں کا حق ہے اور یہ حق انہیں دیں گے۔

Comments are closed.