قومی اسمبلی ،مالی سال 2024-25 کا بجٹ اورفنانس بل کثرت رائے سے منظور،اپوزیشن کی تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی نے مالی سال 2024/25کابجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا جبکہ فنانس ترمیمی بل 2024 کی بھی کثرت رائے سے منظوری دے دی بجٹ منظوری کے وقت اپوزیشن جماعتیں ایوان سے واک آوٴٹ کر گئیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ،اپوزیشن کی جماعتوں نے بجٹ کو مسترد بھی کردیا ،بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئی ،اپوزیشن کے مطابق سپیکر نے ایوان میں رائے شماری بھی کرائی۔بجٹ کا مجموعی حجم 18877 ارب روپے ہے،جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار آیاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا ا اجلاس میں جے یوآئی کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہاکہ فنانس بل میں اربوں روپے ٹیکسز لگائے گئے ہیں اس سے عوام کی کیا حالت ہوگی وہ ان کمروں میں بیٹھنے والوں کو پتہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پٹرولیم لیوی پر 30روپے بڑھا دیا گیا ہے اس سے مسائل بڑھے گے انہوں نے کہاکہ میڈیکل آلات پر بھی ڈیوٹی لگائی گئی ہے اس ڈیوٹی کو ختم کیا جائے انہوں نے کہاکہ پیکیج دودھ اور سٹیشنری پر جی ایس ٹی سے ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے والدین کو مشکلات ہونگی انہوں نے کہاکہ لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر بھی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے اس سے تعلیم کے حصول میں مشکلات ہونگی وزیر اعظم سے دورخواست ہے کہ اس طرف خصوصی توجہ دیں انہوں نے کہاکہ نان فائلر پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگایا جایا جارہا ہے موبائل فون مہنگے کردئیے گئے ہیں جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس لگایا جارہا ہے حالانکہ یہ صوبوں کا معاملہ ہے انہوں نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہاکہ اس بل کی مختلف شقوں پر مجھے اعتراض ہے اور میں نے اس میں ترامیم کی سفارش کی ہے انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ ایسی حکومت کو جس کے پاس حکومت کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے یہ بجٹ عوام کیلئے نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اس بجٹ سے نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں بہتری آنے کا امکان ہے انہوں نے کہاکہ 50ہزار تخواہ لینے والا ایک ماہ گھر کا خرچہ پورا نہیں کرسکتا ہے
ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں یہ آئی ای ایف اور فارم 47والوں کا بجٹ ہے ،بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کیلئے سی سی آئی کی منظوری ضروری ہے انہوں نے کہاکہ انکم ٹیکس میں ترمیم کرکے نقصانات کو 10سال کاوقت دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام کو فائلر بنایا جارہا ہے جب تک ایف بی آر کے سٹرکچر میں تبدیلی نہیں کریں گے اس وقت تک نہ توان کے ٹارگٹ پورے ہونگے رکن اسمبلی زرتاج گل نے کہاکہ جو ووٹ دیتے ہیں وہ احتساب بھی کرتے ہیں مگر موجودہ حکومت فارم 47کے زریعے آئی ہے اس میں عوام کیلئے کچھ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ بجٹ میں تعلیم اور صحت سمیت موسیماتی تبدیلیوں کیلئے خاطر خواہ بجٹ نہیں رکھے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہاکہ یہ بجٹ درحقیقت پاکستان کے عوام کے خلاف ایک اقتصادی دہشت گردی ہے پاکستان کے عوام اس کے ٹارگٹ ہیں اور حکومت تسلیم کرچکی ہے کہ یہ بجٹ ہم نے نہیں بلکہ آئی ایم ایف نے بنایا ہے انہوں نے کہاکہ یہ حکومت عوام کی معاشی قاتل ہے انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ کے دور میں ساڑے چار سو ارب کی گندم درآمد کی گئی تھی اور حکومت نے کسانوں سے گندم نہیں خریدی ہے انہوں نے کہاکہ بجٹ سے افراط زر میں اضافہ ہوگاجن اشیاء کی قیمتیں کم ہوئی تھی وہ اب دوبارہ بڑھ رہی ہیں انہوں نے کہاکہ اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ 30ارب روپے کی نجکاری سے وصول ہونے کا بتاتے ہیں اگر اداروں کو فروخت کیا جارہا ہے تو ان کو اربون روپے کیوں دئیے جارے ہیں انہوں نے کہاکہ بجٹ میں بیرونی سرمایہ کاری کا کہیں بھی زکر نہیں ہے ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ بجٹ کا خسارہ 7ہزار ارب سے زیادہ ہے جبکہ سوبوں کا سرپلس بجٹ 7سو ارب سے زیادہ ہے
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کو جتنی رقم دینے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بھی درست نہیں ہے خیبر پختونخوا کو 158ارب روپے دینے ہیں مگر وہاں پر بہت زیادہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ اڈیالہ جیل میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ جان بوجھ کر کی جارہی ہے بیرسٹر عمیر نیازی نے کہاکہ کسانوں کو شمسی توانائی پر سبسڈی دی جائے اس سے زرعی شعبے میں بہتری آئیگی انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو قرضے دیکر ہم آئی ٹی کے شعبے میں بہتری لاسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر امریکہ اور فرانس اسلحہ بیچ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں بیچ سکتے ہیں رکن اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ وزیر اعظم بتائیں کہ اخری سی سی آئی کی میٹنگ کب ہوئی ہے اور ہمارے ضم اضلاع کے بعد این ایف سی کا شیئر 19فیصد ہوگیا ہے وہ ہمارا حق ہے لیکن ابھی تک سی سی آئی کی میٹنگ نہیں ہوئی ہے جو کہ غیر آئینی ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ نے این ایف سی ایوارڈ کا حصہ اور 3فیصد مذید حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر پورا نہیں ہوا ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے 111ارب روپے نیٹ ہائیڈل پرافٹ خیبر پختونخوا کو کب دئیے جائیں گے انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کو ہر سال 100ارب روپے دینے کا وعدہ کب پورا ہوگا قبائلی اضلاع میں حالات خراب ہورہے ہیں اور کاروبار بند ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ جو وعدہ اس ایوان نے کیا تھا اس کو پورا کیا جائے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے قبائلی اضلاع کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی ہے پنجاب اور سندھ میں ان کی مرضی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی تعینات ہیں مگر خیبر پختونخوا کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو باوجود کوششوں کے تبدیل نہیں کیا جارہا ہے جے یوآئی کے رکن اسمبلی نور عالم خان نے کہاکہ بجٹ میں ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا ہے یہ بہت زیادتی ہے انہوں نے کہاکہ ڈیزل اور پٹرول پر 85روپے پٹرولیم لیوی لی جارہی ہے اس کے بعد کرایوں میں اضافہ ہوجائیگامیری درخواست ہے کہ پاکستان کیلئے سوچیں رکن اسمبلی مومین عارف نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ بہت زیادہ ہے اس میں کمی کیجائے وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب خان نے کہاکہ اس وقت ملک کی جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے ہمارا روپیہ مستحکم ہے ہمارے ترسیلات بہتر ہیں ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے افراط زر کی شرح میں کمی آرہی ہے انہوں نے کہاکہ بجٹ کے بنیادی اصول کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی کم نہیں ہوسکتی ہے اور اس میں اضافہ بہت ضروری ہے اور اس کیلئے ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ کی جائے گی انہوں نے کہاکہ نان فائلر کے اختراع کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ ہم نان فائلر کیلئے مشکلات بڑھائیں گے ملک کے پسماندہ طبقے کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں انہوں نے کہاکہ نجکاری اگلے دو سے تین سال میں پوری ہوگی اس موقع پرایوان نے فنانس بل کی کثرت رائے سے منظوری دیدی اپوزیشن کی جانب سے کی جانے والی تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئی اجلاس کے دوران اپوزیشن کے مطالبے پر سپیکر نے ترامیم پر ایوان میں رائے شماری کرائی جس میں ترامیم کی مخالفت میں 170 ووٹ جبکہ ترامیم کے حق میں 84ووٹ آئے۔۔۔
Comments are closed.