مخصوص نشستوں کے لئے لسٹ جمع کرانا ضروری‘ سنی اتحاد کونسل نے نہیں کروائی‘ بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد (آن لائن) ترجمان قانونی امور بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ جمع نہیں کروائی جبکہ ان نشستوں کے لئے لسٹ جمع کرانا ضروری ہے ۔ نشستوں کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر کلیریٹی کہ ضرورت ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ نشستیں ہمارے پاس آئیں گی،آئین کے آرٹیکل 51 اس ضمن میں بہت واضح ہے۔

انہوں نے کہا سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرائی۔ ان کے کسی امیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع نہیں کرائے۔ اب یہ لوگ کس منہ سے مخصوص نشستوں سے مانگ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا آرٹیکل 51 اور ضمنی آرٹیکلز کے مطابق مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں۔ 77 مخصوص نشستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ فہرست جمع نہ کرانے والی جماعت کیسے نشستیں مانگ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا مخصوص نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں۔ الیکشن کمیشن متناسب نمائندگی کا فارمولا آج سپریم کورٹ میں پیش کرے گا

، آئین اور قانون کسی کی منشاء پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جعل سازی کے ذریعے کرائے۔ انہوں نے کہا انتخابات کا ایک پراسیس ہے، اسے فالو کیا جاتا ہے۔ سنی اتحاد کونسل اراکین نے بحیثیتِ آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا۔ انکے چئیرمین نے بھی آزاد امیدوار کی حثیت سے الیکشن لڑا ۔ ایسے میں یہ کیسے ان نشستوں کے حقدار بن رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا پاکستان کی عوام کو بیوقوف مت بنائیں، آئین اور قانون پر عملدرآمد کریں، تسلیم کریں کہ آپ کی جماعت سے قانونی غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کسی نے آذاد اْمیدواروں کو پی ٹی آئی میں شمولیت سے نہیں روکا۔ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آئے گا حکومت اس پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

Comments are closed.