حکومت اپنے اخراجات جتنے کم کر سکتی تھی کر دیئے ہیں‘وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارر نے کہا ہے کہ ہمارے دو سابق ساتھیوں نے بجٹ سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کئے ، حکومت نے عوام پر ٹیکس لگانے سے پہلے اپنے اخراجات ہی کم کئے ۔ وزیراعظم، سمیت ان کی پوری کا بینہ تنخواہ نہیں لے رہی ‘ ہم باتوں پر نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں‘حکومت اپنے اخراجات جتنے کم کر سکتی تھی کر دیئے ہیں۔یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلات و نشریا ت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے ہمارے سابق ساتھیوں نے بجٹ بک پڑھے بغیر اس پر پریس کانفرنس کر ڈالی ۔ ان کو بتانا چاہتا ہوں حکومت نے اپنے اخراجات میں واضح کمی کی ہے ۔ یہ حکومت آئی تو وزیراعظم نے کوشش کی کہ کچھ اصلاحات اپنے طور پر کرسکتے ہیں ۔ حکومتی اخراجات کو کم کرنے کیلئے عملی کام کیا گیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف سمیت ان کی پوری کابینہ تنخواہ نہیں لے رہی ۔ پی ڈبلیو ڈی کرپشن کا ذریعہ تھا اس کو تحلیل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ارکان اسمبلی کوترقیاتی سکیموں کیلئے500ارب روپے کی بات من گھڑت ہے ۔ میں حیران ہوں کہ یہ اعدادوشمار انہوں نے کہاں سے لیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ ڈاون سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کیلئے ایک کمیٹی قائم کی ہے ۔ میں نے کلچر کو اطلاعات میں ضم کرنے کیلئے ایک خط لکھا ہے ۔ وزیر داخلہ نے نارکوٹکس ڈویژن کو ختم کردیا ہے ۔

پی آئی اے کی نجکاری کی ان کو تعریف کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے کئی شعبوں میں اصلاحات کی گئیں۔ حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا کہ نئی اصلاحات متعارف کرائی جائیں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت باتوں پر نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری پر کام تیزی سے جاری ہے۔سرکاری اداروں کی نجکاری میں تیزی آئی ہے۔ آج مہنگائی کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے۔ ایف بی آر کے 13 ٹریلین کا ریونیو کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت کوئی پیسہ لگائے بغیر ملنڈا گیٹس فاونڈیشن کے ذریعے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو حکومت کے ان بہتر معاشی اقدامات کو بھی سراہنا چاہئے تھا۔ سولر پینلز پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ وزیراعظم ملک و قوم کی بہتری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کم از کم اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کر دی ہے ‘میڈیا ورکرز اور رپورٹرز کے حوالے سے بھی کم از کم اجرت کا اطلاق ہونا چاہئے۔ پی بی اے اور اے پی این ایس نے اس حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعظم کا ویژن ہے کہ ملکی معیشت کو درست کیا جائے۔ تجارتی خسارہ کم ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر کے دو ماہ کے لئے ہو گئے ہیں۔ جو کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں صرف پندرہ دن کے رہ گئے تھے ۔ آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں روزانہ کی بنیادوں پر تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بجٹ معیشت کے استحکام کی جانب مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتاح صاحب وزیر خزانہ تھے تو مہنگائی زیادہ تھی اب کم ہوئی ہے ۔پریس کانفرنس میں ان اقدامات کی تعریف ہونی چاہیے تھی ۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم نے سولر پینل، پنشن، کھاد، خیراتی ہسپتالوں، اور آلات پر ٹیکس نہیں لگنے دیا ۔ ایک لاکھ تنخواہ والے کو پچیس سو ٹیکس دینا پڑے گا ۔ ا نہوں نے کہا لوگوں کو اب نان فائلر سے فائلر بننا ہوگا ۔ اسلام آباد میں فارم ہاوٴسز اور بڑے گھروں پہ ٹیکس لگایا گیا ہے ۔ یہ لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے لیکن معیشت کی بہتری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے دوست ہماری ہر حکومت کا حصہ رہے ۔ کیا ان کو ایف بی آر اور پی آئی اے کی ڈیجیٹیلائزیشن پر اعتراض ہے؟ ۔ آپ کو کس چیز پہ اعتراض ہے کیا اس بات پہ اعتراض ہے کہ پنشن اور کھاد پہ ٹیکس نہیں لگایا گیا؟ ہمیں اب یہ روش ختم کرنا ہوگی کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کا بوجھ ٹیکس ادا کرنے والے اٹھائیں۔ فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہونے سے ٹیکس بیس فیصد بڑھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت بنانا ان کا حق ہے۔ لیکن اس کے لئے غیر ضروری تنقید کا سہارا نہ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے سے بچایا کر معاشی استحکام کی طرف گامزن کیا ہے ۔ اور اب معیشت میں بہتری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ آئی ایم ایف کا بھی آ خری پروگرام ہو گا ۔

Comments are closed.