”حق دو عوام کو“ جماعت اسلامی کا 12جولائی کواسلام ا ٓباد میں دھرنے کا اعلان

اسلام آباد(آن لائن)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے 12جولائی کو وفاقی دارلحکومت میں ”حق دو عوام کو“ کے نام سے دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکمرانوں نے دھرنے کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ہونگے‘اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے ۔یہاں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں امن و امان اور معیشت کی صورتحال اچھی نہیں ہے ہے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاکر بالادست لوگ دبئی میں پراپرٹی خرید رہے ہیں‘اس صورتحال میں ملک کے غریب لوگ کہاں جائیں ۔نام نہاد سیاستدان اپنے بچوں کیلئے ملک سے باہر بڑی بڑی تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں ‘ ملک میں 2کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا شور سنا تھا بتایا جائے کہ بچے معیاری تعلیم کہاں سے حاصل کریں کیونکہ اب اچھی تعلیم بھی قابل خرید ہوگئی ہے اور جس کے پاس اچھے پیسے ہونگے اس کو اچھی تعلیم ملے گی انہوں نے کہاکہ یہاں پر ہر ایک کیلئے الگ الگ اسٹیٹس ہے اور امن خریدنے کیلئے سکیورٹی گارڈ رکھنے پڑتے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک کی صورتحال اچھی نہیں ہے امن و امان اور معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے مڈل کلاس اور تنخوا دار لوگ کہاں جائیں سرکاری سکولوں اور کالجوں میں تعلیم کو قابل فروخت بنا دی گئی ملک میں پڑے لکھے جاہلوں کی حکومت رہی ہے حکمران طبقہ ٹیکسوں کا بوجھ آدمی پر لاد دیا گیا معاشی دہشت گردی ہورہی ہے اس پر بھی ڈو مور کہا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں اس جنگ میں دھکیل دیا گیا جو ہماری جنگ نہیں تھی اور اب یہ ” ڈو مور” کا مطالبہ کررہے ہیں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگاکر نچوڑا جارہا ہے لوگوں کے سمز بند کرکے پاکستان میں افراتفری پیدا کررہے ہیں بجلی کے بل بموں کی صورت میں عوام پر گر رہے ہیں جبکہ اراکین پارلیمنٹ کے مراعات میں اضافہ کیا گیا اراکین پارلیمنٹ کے الانسز بڑھادی گئی اسی طرح ججز کے الاونسز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ آج تک کسی جرنیل یا کسی ججز نے نہیں کہا کہ پاکستان کی خاطر یہ مراعات ہمیں نہیں چاہئے انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ بتائیں بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس کیوں نہیں لگایا اگر پورے پاکستان کی سمیں بند کردیں تو تیس فیصد ٹیکس جمع ہوگا امرا کے اوپر ڈیڑھ فیصد لگادیں تو عوام سے زیادہ پیسے جمع ہوجائیں گے انہوں نے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ کی مراعات بڑھادی گئی ہیں سول و فوجی افسران کی جائیدادوں پر ٹیکس ملتوی کیا جارہاہے حکمران طبقہ اپنی مراعات چھوڑنے کو تیار نہیں کسانوں سے گندم خریدی نہ سبسٹڈی دی اب کپاس بیس سے تیس فیصد کم بوائی ہوئی ہے بجلی تین سو یونٹ تک فری بجلی دینے کے دعوے کرتے تھے اب دوسو اور تین سو یونٹ فری بجلی والے کہاں ہیں انہوں نے کہاکہ اب پی پی پی مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم عوام کو دھوکہ دینے کے لئے نوراکشتی کررہے ہیں عوام تینوں حکمران جماعتوں کو پوری طرح پہنچان چکے ہیں اب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زیادہ بولنے والے ہی اس کے وفادار ہوتے ہیں جماعت اسلامی نے حق دو تحریک کا اغاز بلوچستان سے کیا تھا اور اب پورے ملک کیلئے حکمرانوں سے حق مانگے گے انہوں نے کہاکہ تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ ہمارا رابطہ بھی ہے تاہم پارٹیوں کے اندر کنفوژن چل رہی ہے ہم عوامی ایشوزکو ابہام کا شکار نہیں کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کسی اتحاد یا انتخابی اتحاد میں نہیں جائیں گے تا ہم کسی کے پلیٹ فارم پر عوامی ایشوز کے لئے جابھی سکتے ہیں اوربلا بھی سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارا ایجنڈا بجلی بلوں میں ریلیف ہوگا کیونکہ ایم کیو ایم اور پی پی پی نے کے الیکٹرک کے ساتھ ملکر کراچی کا بیٹرا غرق کردیا ہے ان آئی پی پیز اور سیاسی جماعتوں کا شیطانی اتحاد ہے انہوں نے کہاکہ ہم فارم 45کے مطابق الیکشن کا نتیجہ چاہتے ہیں ہم نئے الیکشن نہیں چاہتے ہیں کیونکہ اس پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت نے عوام کیلئے آج کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھا رہا جماعت اسلامی نے حق دو عوام کو مہم شروع کردی ہے ہم نے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا ہے ہم 12 جولائی کو اسلام آباد میں دھرنا دینگے عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے خدارا عام آدمی کو جینے دو ہم تاریخی دھرنا دینے جارہے ہیں اور یہ دھرنا ایک دن کا نہیں ہوگا، ہم یہاں بیٹھیں گے اس حوالے سے ہم کیمپنگ کررہے ہیں تمام لوگ تیار ہوکر آئیں گے ہم تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو دھرنے میں بٹھائینگے اس دھرنے میں خواتین اور فیملز بھی آئیں گی انہوں نے کہاکہ یہ حکومت فارم 47 کی پیدوار ہے یہ جیتے نہیں بلکہ انہیں مسلط کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ تحریک تحفظ والے بتائیں کہ چار ماہ میں ان کی کیا کارکردگی ہے میں اپوزیشن کے حوالے سے کسی قسم کی تقسیم کا خواہاں نہیں ہوں کیونکہ اس سے حکومت فائدہ اٹھاتی ہے ہمارا واحد ایجنڈا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط واپس لی جائیں اورعوام پر ڈالا گیا بوجھ واپس لیا جائے انہوں نے کہاکہ تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ رابطہ ہے جبکہ سنی اتحاد کونسل کنفیوز ہے اس کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے ہم کو کنفیوز نہیں کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے احتجاج کا اگر حکومت نے راستہ روکا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے جب تک حکومت ریلیف نہیں دے تب تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی کو تباہ کردیا ہے آئی پی پیز کا حکومت کے ساتھ شیطانی اتحاد ہے یہ حکومت فارم 47 کی پیداور ہے ہم ملک گیر ہڑتال کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.