قائدین نے سکھایا ہے کہ سیاسی مخالفت سیاسی دشمنی نہیں ہوتی،عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ہم جمہوری روایات کے امین ہیں، وزارت اطلاعات کی طرف سے قائمہ کمیٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا، ہمارے قائدین نے سکھایا ہے کہ سیاسی مخالفت سیاسی دشمنی نہیں ہوتی،ہمارے قائد نواز شریف نے ہمیشہ پارلیمان کی بالادستی کو ترجیح دی، کل کون اقتدار میں ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا، ہم اپنے عمل سے پہچانے جائیں گے اور تاریخ بھی ہمیں اسی پیرائے میں جانچے گی،بجٹ میں میڈیا ہاوٴسز اور اخبارات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگنے دیا، ان تمام اقدامات کے فوائدملازمین کو ملنے چاہئیں، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا استحصال نہیں ہونا چاہئے۔وہ سینیٹر سید علی ظفر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں اظہار خیال کر رہے تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑنے سینیٹر سید علی ظفر کو قائمہ کمیٹی کا چیئرمین بننے پر مبارکباددی اور کہا کہ ہم جمہوری روایات کے امین ہیں، وزارت اطلاعات کی طرف سے قائمہ کمیٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا، قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے قائدین نے ہمیں سکھایا ہے کہ سیاسی مخالف زخمی ہو تو اس کے گھر جا کر اس کی تیمار داری کی جاتی ہے، سیاسی مخالف کی خاطر اپنی الیکشن مہم کو معطل کیا جاتا ہے،سیاسی مخالفت سیاسی دشمنی نہیں ہوتی، سیاسی مخالفین سے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے بات چیت کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست کے اندر ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہونے کو فروغ ملنا چاہئے، ماضی میں ہم اس پر عمل پیرا ہوئے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد نواز شریف نے ہمیشہ پارلیمان کی بالادستی کو ترجیح دی

، ان کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی کے اہم اور سنجیدہ معاملات پر پہلی مرتبہ ایوان میں ووٹنگ سے فیصلہ ہوا، اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے 2017ئمیں اطلاعات تک رسائی کے قانون کا سہرا بھی تمام پارلیمنٹیرین کو جاتا ہے، یہ اقدام اس وقت کی حکومت نے نواز شریف کی قیادت میں اٹھایا تھا، ہم نے ماضی سے سیکھا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ وقت کا دھارا ہے کہ کل ہم اپوزیشن بینچوں پر تھے اور آج حکومت میں ہیں، کل کون اقتدار میں ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا، ہم اپنے عمل سے پہچانے جائیں گے اور تاریخ بھی ہمیں اسی پیرائے میں جانچے گی، ملکی مفادات کے لئے اقدامات سے متعلق آپ ہمیں اپنے آپ سے ہمیشہ ایک قدم آگے پائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز اور صحافیوں کے واجبات ادا ہونے چاہئیں، ہم نے اشتہارات کی مد میں 1.6 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے، بجٹ میں میڈیا ہاوٴسز اور اخبارات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگنے دیا، ان تمام اقدامات کے فوائد میڈیا ہاوٴسز اور اخبارات کے ملازمین کو ملنے چاہئیں، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا استحصال نہیں ہونا چاہئے، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے میڈیا ورکرز اور صحافیوں کے واجبات کی ادائیگی کا یقین دلایا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آئی ٹی این ای کا فورم موجود ہے، اس فورم کے ذریعے متاثرہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں واجبات کے متعدد چیک تقسیم کئے ہیں،اس فورم پر جو بھی ملازم آتا ہے اس کو واجبات کی ادائیگی کی جاتی ہے، آئی ٹی این ای کے فورم پر معاملہ جانے کی بجائے یہ معاملات اپنے طور پر طے کئے جانے چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی چینل کے اشتہارات بند نہیں کئے گئے، اشتہارات کے نرخوں کا تعین ریٹنگ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،اے پی این ایس سے ڈمی اخبارات کے معاملہ پر بات کی ہے، اے پی این ایس ڈمی اخبارات کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔

Comments are closed.