جسٹس طارق محمود جہانگیری کس اہلیت کی بنیاد پر عہدے پر بیٹھے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

اسلام آباد(آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمودجہانگیری کے حوالے سے درخواست دائرکرنے والے درخواست گزارمیاں داوٴد ایڈوکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ انھوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی کو چیلنج کیا تھا،درخواست میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگریوں کی تحقیقات کروائی جائیں ،کیا جسٹس جہانگیری وکیل بننے کے میعار پر بھی پورا اترتے ہیں یا نہیں؟جسٹس طارق سے پوچھا جائے کس اہلیت کی بنیاد پر وہ اس عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں،رجسٹرار آفس کی جانب سے دو اعتراضات عائد کیے گئے تھے،درخواست پر اعتراضات کیساتھ چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،عدالت کے اعتراضات کا جواب عدالت میں دیا ہے

،عدالت کا پہلا سوال تھا۔کیا ہائیکورٹ کے جج کے خلاف کوارنٹو کی درخواست دائر ہوسکتی ہے یا نہیں؟دوسرا سوال تھا سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التواء کیس کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے یہ اصول طے کردیا ہے سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التواء کیس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ہائیکورٹ کے جج کی اہلیت وکیل کیساتھ ساتھ دس سال پریکٹس ہے،جسٹس طارق کی ڈگری مشکوک ہے ،ممکن ہے یونیورسٹی کا خط غلط یا درست ہو ،اس معاملہ کے لیے آئین و قانون میں کوارنٹو کا راستہ ہی بچتا ہے،درخواست گزار نے معلومات عدالت کے سامنے رکھنا ہوتی ہے،چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست کی قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا ہے،امید ہے اس کیس میں ریگولر سماعت ضرور ہو گی۔

Comments are closed.