وائٹ ہاؤس عملہ بائیڈن کی ذہنی صلاحیتیں چھپانے کی کوشش کرتا رہا،برطانوی اخبار
واشنگٹن ( آن لائن) امریکی صدر بائیڈن کوڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کے بعد دوبارہ انتخاب کے لیے اپنی امیدواری ترک کرنے کے لیے مزید مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران وہ کچھ جوابات میں ہکلاتے رہے اور دوسرے اوقات میں درست جوابات دیتے رہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بائیڈن کی اس کارکردگی نے شکوک و شبہات پیدا کردئیے ہیں کہ وہ پارٹی کے ان سیاست دانوں کو اپنی امیدواری پر قائل کر سکیں گے جو ان کی جیتنے کی اہلیت کے بارے میں فکر مند ہیں۔وہ فکر مند ہیں کہ 5 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے آیا وہ ہی ان کی بہترین آپشن ہیں اور کیا وہ دوسری چار سالہ مدت تک برقرار رہیں گے۔
ڈیموکریٹس کو تشویش ہے کہ بائیڈن کی مقبول حمایت میں کمی کے ساتھ ساتھ یہ اندیشے بھی بڑھ رہے ہیں کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے لیے بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور پارٹی کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں نشستیں کھونے کا سبب بن سکتے ہیں۔اس طرح ٹرمپ صدارت جیت سکتے ہیں۔اس تناظر میں برطانوی اخبارنے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا کہ وائٹ ہاس کے معاونین نے صدر جو بائیڈن کے علمی زوال کو دنیا سے چھپانے کے لیے ایک حساب شدہ منصوبہ پر عمل درآمد کیا لیکن وہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گئے جب گزشتہ ماہ ہونے والی بحث کے دوران بائیڈن اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوگئے۔اخبار کے مطابق عملے نے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے بہت سے حربے استعمال کیے تھے۔صحافیوں کی ان تک رسائی کو محدود کرنا، صدر کو ایئر فورس ون کی چھوٹی سیڑھیاں دینا، انہیں عوامی مقامات پر جسمانی طور پر گھیرے رکھنا انہیں کوششوں کا حصہ تھا۔بائیڈن کو تقریبا ہر تقریب کے لیے بہت بنیادی ہدایات کے ساتھ بڑے پرنٹ شدہ نوٹ کارڈز بھی دئیے گئے۔ ان کا روزانہ کا شیڈول ایسا رکھا گیا جس میں وہ زیادہ نیند لے سکیں۔ ذریعہ نے بتایا کہ ملازمین نے صدر کو گرنے سے روکنے کے لئے بھی حکمت عملی تیار کی تھی۔
Comments are closed.