اسلام آباد آن لائن)سابق وفاقی وزیر تجارت‘ صنعت و پیداوار ڈاکٹر گوہر اعجاز نے انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کیخلاف سپریم کورٹ میں جلد مقدمہ دائر کرنے کے لیے سینیئرقانون دانوں سے مشاورت مکمل کرلی ہے رواں ہفتے یااس کے اگلے ہفتے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکیے جانے کاامکان ہے۔ذرائع نے بتایاہے کہ سابق وفاقی وزیرنے اپناہوم ورک مکمل کرلیاہے اور اس دوران انھوں نے دس سے زائدسینئرقانون دانوں سے بھی کیس کے آئینی وقانونی پہلو? ں پرمشاورت کی ہے اور مزیدمشاورت کاعمل بھی جاری ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ اس کیس کے لیے تین رکنی وکلاء ٹیم کومقررکرنے بارے مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اس کے بعددرخواست تیار کرکے اس کوسپریم کورٹ میں دائر کردیاجائیگا۔ذرائع کاکہناہے کہ کیس کے حوالے سے تمام ترٹھوس شواہدکی کاپیا ں بھی حاصل کرلی گئی ہیں دوسری جانب سابق وفاقی وزیرنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا تھا کہ قوم کی جانب سے 40آئی پیز کے مالکان کیخلاف عدالت سے رجوع کرینگے۔
دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس مشن میں کامیابی عطا فرمائے اور انصاف کے حصول میں ہماری مدد کرے۔ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 3ماہ جنوری تا مارچ 2024ء کے دوران آئی پی پیز کو 450ارب روپے کی بھاری ادائیگیاں کی گئیں۔ مختلف آئی پی پیز کو جنوری سے مارچ 2024ء کے دوران ماہانہ 150ارب روپے ادا کئے گئے۔ آْئی پی پیز میں سے آدھے دس فیصد سے بھی کم پیداواری استعداد پر چل رہے ہیں۔ چار پاور پلانٹس بغیر بجلی پیدا کئے 10ارب روپے ماہانہ لے رہے ہیں۔سابق نگران دور کے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک بھر کے صنعتکار‘ بزنسمین‘ گھریلو صارفین اپنی حلال کی کمائی 40خاندانوں میں کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں ادا نہیں کرنے دینگے۔ ان پاور پلانٹس کو پیسے تب ہی دیئے جائیں جب یہ بجلی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) میں عام اسٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کیلئے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ 2020ء میں سابقہ توانائی کے عبوری وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پیز کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ وہ رپورٹ ٓاج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی‘ کیوں؟؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک ا?ڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟ آئی پی پیز معاہدوں کے تحت پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ لاگت ساٹھ روپے تک پہنچ گئی ہے‘ جبکہ جنوبی ایشیائمیں فی یونٹ بجلی 18روپے ہے۔ بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور تمام کاروبار کو دیوالیہ کر رہی ہے۔
Comments are closed.