اگر ٹیکسز کی شرح کو 13 فیصد تک لے کر جانا ہے تو سب کو تعاون کرنا ہوگا، وزیر خزانہ

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر ٹیکسز کی شرح کو 13 فیصد تک لے کر جانا ہے تو سب کو تعاون کرنا ہوگا،کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور کوشش رہے ہیں کہ نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔تقریبا 70 ملین کے یکم جولائی سے ریفنڈز جا چکے ہیں، زراعت پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے صوبائی حکومتیں قانون سازی کریں گی،آئی ایم ایف تو ٹیکس میں اضافہ چاہتا ہے،وزارتوں کے انضمام کا اعلان خود وزیراعظم کرینگے۔یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مقامی سطح پر ٹیکس کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے، ٹیکسز بڑ ھانے کے لیے عوام کو سہولیات دینا ہوں گی، تاجر دوست اسکیم متعارف کرائی ہے، تاجروں کے لیے ٹیکسیسشن کے عمل کو انتہائی آسان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سیلری کلاس سے ہی یہاں آیا ہوں، کوشش رہی ہے کہ نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے، ٹیکس کے واجبات ادا کرنے سے معیشت مضبوط ہوگی،

گزارش ہے کہ آپ میرے ساتھ ملکر ملکی معیشت کی بہتری کے لیے آواز اٹھائیں، ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق وزیراعظم ہر ہفتے اجلاس کررہے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ہمیں گزشتہ دو ماہ میں دو تین چیزیں سمجھ میں آئی ہیں، میں اپنی بات کرتا ہوں کہ میں جو سفر کرتا ہوں، کریڈٹ کارڈ استعمال کرتا ہوں یا پھر کسی بھی قسم کی گاڑی یا گھر رکھتا ہوں تو وہ اس کا سارا ڈیٹا موجود ہے، اور اس کے علاوہ کہ میں ٹیکس کتنا ادا کرتا ہوں، اسی بنیاد پر ہم نے 49 لاکھ فائلرز کا ڈیٹا اٹھایا جس میں ان کا سارا لائف اسٹائل موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ڈیٹا ہی سب سے بڑا ثبوت ہوگا، تاہم اس میں کچھ مسائل بھی آرہے ہیں کہ میرا ڈیٹا استعمال کرکے افسران کہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ڈیل کرلیں، یعنی اس میں کرپشن بھی ہے اور کسی کو ہراساں کرنا بھی شامل ہے لیکن وہ اب نہیں ہوسکے گا کیوں کہ نان فائلرز کو سینٹرلائز طریقے سے نوٹس جائیں گے، نان فائلرز کو ٹیکس افسران براہ راست نوٹس نہیں بھیج سکیں گے جس سے ایف بی آر سے ہراسگی ختم ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت کو ٹیکس رجیم میں لانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، وزرائے اعلیٰ زرعی ٹیکس کے حوالے سے قانون سازی کریں گے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں ٹیکس کے مراحل کو آسان کرنا ہوگا، میں بیرون ممالک میں رہا ہوں جہاں ہر سال میرے پاس ایک سادہ فارم آتا تھا جس میں مجھے بتایا جاتا تھا کہ آپ کا اتنا ٹیکس کٹ چکا ہے

، بس مجھے یہ بتانا ہوتا تھا کہ میں نے کوئی گاڑی یا گھر خریدا یا فروخت کیا لیکن یہاں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر سال ایک تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے وکیل کی ضرورت پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سوال بار بار کیا جارہا ہے کہ غریب طبقہ پر متعدد ٹیکسز لگادیے ہیں لیکن حکومت کیا کررہی ہے تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت اپنے اخراجات سنجیدگی سے کم کرنے پر غور کررہی ہے اور ایک کمیٹی کی سربراہی میں کررہا ہوں جس میں ہم نے 5 وزارتوں کشمیر، گلگت بلتستان سیفران، انڈسٹریز پراڈکشن، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، ہیلتھ کو اٹھایا اس پر غور کررہے ہیں کس کو ختم یا انضمام کرسکتے ہیں، اس حوالے سے حتمی اعلان خود وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ہم کیا کر رہے ہیں مقامی سطح پر ایف بی آر کیا کر رہی ہے سیلز ٹیکس آئی ٹی اور انکم ٹیکس ہم نے جولائی سے دینے شروع کر دیئے ہیں 68 ارب روپے ہمیں ٹیکس کے مد میں مل چکے ہیں تاجر دوست اسکیم سے بھی فائدہ ہورہا ہے سب تاجروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ڈولپرز اور بلڈرس پر جو ٹیکس لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،وزیر خزانہ مقامی سطح پر ٹیکس سے متعلق بات چیت چل رہی ہے،تقریبا 70 ملین کے یکم جولائی سے ریفنڈز جا چکے ہیں،وزیر خزانہ یکم جولائی سے انڈسٹری کو 68 ارب کے ریفنڈز دئیے جا چکے ہیں،ریفنڈ ایڈمنسٹرریشن کیلئے کام کیا جا رہا ہے، کوشش کر رہے نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالیں،میں سیلری کلاس میں سے ہی آیا ہوں،حکومت نے تاجر دوست اسکیم متعارف کروائی ہے،ملک کے اندر ٹیکس سے جڑے معاملات زیر بحث ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگر ٹیکسز کی شرح کو 13 فیصد تک لے کر جانا ہے تو سب کو تعاون کرنا ہوگا،کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے ہی بجتی ہے۔ہم نے یکم جولائی سے ریفنڈز دینا شروع کر دیے تھے،اب تک 68 ارب روپے روپے کے ریفنڈز دیے گئے ہیں

،ٹیکسز کو لے کر انتظامی امور پر بھی کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،آج سے 4 /5 ماہ پہلے میں تنخواہ دور طبقے میں ہی تھا،میرا شمار ملک کے زیادہ ٹیکس دینے والے افراد میں ہوتا تھا،اس لیے میں تنخواہ دار طبقے کے مسائل سمجھتا ہوں،صوبائی حکومتوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ زراعت پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے صوبائی حکومتیں قانون سازی کریں گی،آئی ایم ایف ٹیکس نیٹ میں اضافے کی بات کرتا ہے،ایف بی آر میں اصلاحات کی نگرانی وزیر اعظم خود کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ڈیٹا ہی سب سے بڑا ثبوت ہوگا، تاہم اس میں کچھ مسائل بھی آرہے ہیں کہ میرا ڈیٹا استعمال کرکے افسران کہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ڈیل کرلیں، یعنی اس میں کرپشن بھی ہے اور کسی کو ہراساں کرنا بھی شامل ہے لیکن وہ اب نہیں ہوسکے گا کیوں کہ نان فائلرز کو سینٹرلائز طریقے سے نوٹس جائیں گے، نان فائلرز کو ٹیکس افسران براہ راست نوٹس نہیں بھیج سکیں گے جس سے ایف بی آر سے ہراسگی ختم ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت کو ٹیکس رجیم میں لانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں ٹیکس کے مراحل کو آسان کرنا ہوگا، میں بیرون ممالک میں رہا ہوں جہاں ہر سال میرے پاس ایک سادہ فارم آتا تھا جس میں مجھے بتایا جاتا تھا کہ آپ کا اتنا ٹیکس کٹ چکا ہے، بس مجھے یہ بتانا ہوتا تھا کہ میں نے کوئی گاڑی یا گھر خریدا کا فروخت کیا لیکن یہاں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر سال ایک تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے وکیل کی ضرورت پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سوال بار بار کیا جارہا ہے کہ غریب طبقہ پر متعدد ٹیکسز لگادیے ہیں لیکن حکومت کیا کررہی ہے تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت اپنے اخراجات سنجیدگی سے کم کرنے پر غور کررہی ہے اور رائٹ سائزنگ کے لیے 5 وزارتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

Comments are closed.