پیکا ایکٹ کا مقدمہ، روٴف حسن و دیگر 2 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رہنما پاکستان تحریک انصاف روٴف حسن و دیگر ملزمان کو پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں 2 دن کے جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کردیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی فیس بک ہیڈ سیدہ عروبہ کو جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا، محفوظ شدہ فیصلہ ڈیوٹی جج مرید عباس نے سنایا۔ ایف آئی اے نے رف حسن کو ڈیوٹی جج مرید عباس کی عدالت میں پیش کیا، پی ٹی آئی ترجمان رف حسن و دیگر کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا، اس کے علاوہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سیدہ عروبہ کو بھی جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔پی ٹی آئی وکیل علی بخاری بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔سماعت کے آغاز پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ریکارڈ میں ریاست مخالف ویڈیوز کے ٹرانسکرپٹ لگائے گئے ہیں ، فرانزک بھی کرانی ہے ، ہمیں مزید ریکوری کے لیے مزید 8 دن کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے، پیکا ایکٹ کے تحت 30 دن کا ریمانڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ملزمان کی کسٹڈی نہیں ہوگی تو ہم انکوائری کیسے کریں گے؟

اس پر جج مرید عباس نے استفسار کیا کہ روٴف حسن کا بھارت سے ویزہ یا ٹکٹ بھی آیا ہے؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی روٴف حسن کا بھارت سے سفری ٹکٹ آیا ہے، جج نے روٴف حسن سے دریافت کیا کہ روٴف حسن صاحب آپ کبھی بھارت گئے ہیں ؟ رہنما پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ میں ریجنل تھنک ٹینک چلاتا ہوں ،جج مرید عباس نے روٴف حسن سے استفسار کیا کہ راہول نامی بندے کے ساتھ آپ کی چیٹ ہے، کیا آپ اس کا اقرار کرتے ہیں؟روٴف حسن نے بتایا کہ جی راہول برطانیہ میں رہتا ہے، اس نے گیسٹ اسپیکر کے طور پر مجھے بحرین بلایا تھا ، اس نے دسمبر 2023 میں مجھے بحرین بلایا تھا ، میں کنگ کالج لندن کا سینئرر فیلو ہوں۔بعد ازاں روٴف حسن کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے ورکر کے حوالے سے بات کروں گا ، اس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جتنے بھی ورکرز ہیں ان سب کا تعلق اظہر مشوانی اور روٴف حسن سے ہے، آفاق ، ذیشان ، راشد ،اسامہ سب کا روف حسن سے تعلق ہے۔بعد ازاں علی بخاری ایڈووکیٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ کل ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عروبہ پی ٹی آئی کے ایکس اکاوٴنٹ کو ہینڈل کرتی ہیں ، عروبہ نے ابھی تک اکاوٴنٹس کو سرنڈر نہیں کیا۔علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ خاتون ایک ملازم کے طور پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاوٴنٹس ہینڈل کرتی ہے ، انہیں ہاسٹل سے گرفتار کیا جو قانون کے خلاف ہے ، ایف آئی اے عروبہ کو نوٹس بھی کرسکتی تھی۔

اس پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پیکا کی نئی ترامیم کے تحت گرفتاری کی جاسکتی، علی بخاری ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ سارا کیس صرف موبائل فونز پر آکر رک جاتا ہے ، سب موبائل فون ان کے پاس ہیں ، جب موبائل فون ایف آئی اے کے پاس ہیں تو ملزمان کو چھوڑ دیا جائے، اگر کچھ سامنے آتا تو عدالتیں موجود ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہوا ہے کہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ واپس کر دیے جائیں۔ایف آئی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے میں بھی سب سے پہلے ریاست کو دیکھنا ہوتا ہے ، روٴف حسن نے کہا کہ مجھ پر سوشل میڈیا کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن جو گرفتار ہوئے ان کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں ، جسمانی ریمانڈ لینے کی وجہ صرف یہی ہے کہ جن جن سے ان کا تعلق یہی بتا سکتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے رف حسن اور دیگر کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیاجو بعد میں سناتے ہوئے انہیں2روز کیلئے ایف آئی اے کی تحویل میں دیدیا گیا۔

Comments are closed.