اسلام آباد (آن لائن)پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں ملنے کا معاملہ پراختلافی تفصیلی نوٹ میں کہاگیاہے کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی، پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آرٹیکل 175 اور 185 میں تفویض دائرہ اختیار سے باہر جانا ہو گا، پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 51، آرٹیکل 63 اور آرٹیکل 106 کو معطل کرنا ہو گا۔ابھی تک متفقہ فیصلہ نہ آنے پربھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ہفتے کو جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اختلافی تفصیلی نوٹ جاری کر دیاہے۔
جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم افغان نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا دونوں ججز کا اختلافی فیصلہ 29 صفحات پر مشتمل ہے۔تفصیلی اختلافی نوٹ میں کہاگیاہے کہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے بطور سیاسی جماعت عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا،حتیٰ کہ سنی اتحاد کونسل کے چیرمین نے بھی آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا، دو ججز نے اختلافی فیصلے میں اکثریتی فیصلہ تاحال جاری نہ ہونے پر سوالات اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ مختصر فیصلہ سنانے کے بعد 15 دنوں کا دورانیہ ختم ہونے کے باوجود اکثریتی فیصلہ جاری نہ ہو سکا، پی ٹی اس کیس میں فریق نہیں تھی، پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آرٹیکل 175 اور 185 میں تفویض دائرہ اختیار سے باہر جانا ہو گا، پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 51، آرٹیکل 63 اور آرٹیکل 106 کو معطل کرنا ہو گا۔
Comments are closed.