وزیراعظم کچھ بھی بیان دیتے رہیں اب انہیں عوام کو ریلیف دینا پڑے گا‘ حافظ نعیم الرحمان

راولپنڈی (آن لائن)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کچھ بھی بیان دیتے رہیں اب انہیں عوام کو ریلیف دینا پڑے گا‘حکومتی آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز آج ہی ختم ہو سکتے ہیں‘ جن کے معاہدے ختم ہوگئے ہیں‘ ان کو ادائیگی ختم کی جائے ‘ہمیں ریکوڈک کی مثال دی جاتی ہے، یہاں آئی پی پیز مقامی ہیں۔آج شام غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں ریلی نکالیں گے‘حکومتی کمیٹی تین دن سے تلاش گمشدہ کا اشتہار بنی ہوئی ہے ‘ہم منت ترلے نہیں کریں گے کہ آ کر مذاکرات کریں۔ہفتہ کو یہاں لیاقت باغ میں لیاقت بلوچ اور دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج تاریخی دھرنے کا 19واں دن ہے، کارکنان کے عزم میں روز اضافہ ہو رہا ہے‘دھرنے کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ‘اللہ نے چاہا تو دھرنا پاکستان کی تاریخ میں نیا موڑ ثابت ہوگا‘ حیران ہوتا ہوں جب سیاست اصل رخ پر آنے لگتی ہے تو وزیراعظم کی سطح کے لوگ بھی عوامی ایشوز کی نفی کرنے لگتے ہیں ‘حکومتی پارٹیاں اور وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ ذاتیات کی سیاست چلتی رہے ‘آپ فارم 47 والے جیسے بھی مسلط ہوگئے اس عہدے پر لیکن کچھ خیال کریں ‘عوام کیلئے ریلیف حاصل کرنا ہی ہماری سیاست ہے کسی کو اچھا لگے یا برا ۔

اپنا حق لے کر ہی یہاں سے اٹھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آج آندھی طوفان کے باوجود دھرنا شروع ہوگا اور پورے ملک تک سلسلہ پھیل جائے گا ّہمارے مطالبات سادہ ہیں بجلی کے بل کم کیے جائیں ‘بجلی کی لاگت کے مطابق ہی بل آنا چائیے ‘عوام آئی پی پیز کے کپیسٹی چارجز ادا نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قطر جاتے ہوئے ایئرپورٹ پر لوگوں نے بتایا کہ موٹرسائیکل بیچ کر بل ادا کیا ہے ُلوگوں نے بتایا کہ آئندہ ماہ بیچنے کیلئے بھی کچھ نہیں ہے ‘لوگ کہتے ہیں دھرنے سے امید پیدا ہوئی ہے اس سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے ‘وہ بجلی جو بنتی نہیں اس کی ادائیگی عوام کریں یہ قبول نہیں ہے ‘رواں بجٹ میں بنایا گیا سلیب واپس لینا چاہیے ‘صرف اعلان کرکے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کا سلسلہ رکنا چاہیے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی یہاں موجود ہے، ہماری کسی بات کا حکومت کے پاس جواب نہیں ‘مذاکرات میں کیوں نہیں ثابت کر پاتے کہ آئی پی پیز کا معاملہ قابل عمل نہیں ‘حکومتی کمیٹی تین دن سے تلاش گمشدہ کا اشتہار بنی ہوئی ہے

‘ہم منت ترلے نہیں کریں گے کہ آ کر مذاکرات کریں بجلی کے بل اور ٹیکس سلیب کم کرنا ہی ہونگے‘حکومتی آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز آج ہی ختم ہو سکتے ہیں‘ جن کے معاہدے ختم ہوگئے ہیں‘ ان کو ادائیگی ختم کی جائے ‘ہمیں ریکوڈک کی مثال دی جاتی ہے، یہاں آئی پی پیز مقامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک ایران پائپ لائن منصوبے میں اربوں ڈالر کے جرمانے کا خوف کیوں نہیں ہے؟جو معاہدے ہی فراڈ ہوں ان کا خاتمہ چیلنج ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔وزیراعظم بتائیں کیوں 1300 سی سی گاڑی میں کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ 1300سی سی گاڑی میں پلیٹ لیٹس کا مسئلہ تو نہیں ہوتا؟ وزرائے اعلی، ججز بیوروکریٹس کیوں نہیں چھوٹی گاڑیوں میں آ سکتے؟ سرکار کی مراعات کا بوجھ عوام کیوں اٹھائے؟کھانے پینے کی چیزوں اور سٹیشنری پر عائد ٹیکس ختم کئے جائیں ۔وزیراعظم سیاست نہ کریں سامنے آ کر بتائیں آئی ایم ایف نے کہا ادویات، خوارک پر ٹیکس نہیں لگائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کا کہا وہاں تو بات نہیں مانتے ‘حکومت کا پاس کردہ بجٹ دھوکے پر مبنی ہے‘دھرنا موجود ہے اور پوری قوت کیساتھ آگے بڑھے گا ‘بین الاقوامی سطح پر امت کو درپیش چیلنجز پر بھی دھرنا آواز بلند کرتا ہے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج اسماعیل حانیہ کی اپیل پر شام کو اسیران فلسطین کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ریلی نکالیں گے ۔وزیراعظم کچھ بھی بیان دیتے رہیں اب انہیں عوام کو ریلیف دینا پڑے گا۔

Comments are closed.