آئی ایس آئی آفسر کیخلاف ہتک عزت کیس میں بار بار شکست
متنازع یوٹیوبر میجرریٹائرڈ عادل راجہ نے اپنے وکیل مہتاب انور عزیز اور ان کی لاء فرم کو فارغ کر دیا،سنگین الزامات
اسلام آباد(آن لائن)متنازع یوٹیوبر میجرریٹائرڈ عادل راجہ نے سابق آئی ایس آئی کمانڈر بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کیخلاف ہتک عزت کیس میں برطانوی رائل کورٹ آف جسٹس میں باربار شکست کے بعد اپنے وکیل مہتاب انور عزیز اور ان کی لاء فرم سنٹرل چیمبرز لاء سولیسٹرز کو فراڈ،غیر پیشہ ور اور غلط بیانی کے الزامات لگاکر فارغ کر دیا ہے۔ایک بیان میں عادل راجہ نے کہا کہ مہتاب انور عزیز کے غلط مشوروں کی وجہ سے انہیں سابق آئی ایس آئی افسر بریگیڈیئرراشد نصیر کو ہزاروں پاؤنڈ دینے پڑے۔عادل راجہ نے مہتاب عزیز پر فراڈ اور بدتمیز ی کے سنگین الزامات لگائے ہیں جو خود کو پی ٹی آئی کا اہم لیڈر کہتا ہے۔
عادل راجہ نے کہا کہ وہ سولیسٹرز ریگولیٹری اتھارٹی (ایس آر اے)کو اس لیگل فرم کیخلاف شکایت کریں گے جو وکلا کے رویہ پر نظررکھتی ہے۔عادل راجہ نے کہا کہ ان کے وکیل کی کئی درخواستیں انہیں بتائے اور علم میں لائے بغیر عدالت میں جمع کرادیں جس کی وجہ سے انہیں بڑا نقصان ہوا۔انہوں نے کہاکہ میری لیگل ٹیم نے سب سے پہلے آنے والی لاگت کے تحفظ کیلئے درخواست دی لیکن وہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدے کی وجہ سے مستردکر دی گئی۔ اس کے بعد میری مشاورت کے بغیر میرے وکلا نے تین مہینے کے حکم امتناع کی درخواست دے دی کہ آئی ایس آئی کمانڈر کے وکلا کے خلاف برطانوی ادارہ تحقیقات کر رہا ہے مگر وہ بھی مسترد کر دی گئی۔جج کا موقف تھا کہ ضروری نہیں کہ یہ تحقیقات تین ماہ میں مکمل ہو جائے دوسرا یہ کہ بریگیڈیئر نصیر کسی بھی وقت اپنے وکلا تبدیل کر سکتے ہیں۔قانون کے مطابق مستردہونے والی درخواستوں کے اخراجات درخواست دہندہ کو ہی دینے ہوتے ہیں،اس طرح دو درخواستیں مسترد ہونے پر مجھے 10ہزار پاؤنڈ ادا کرنا پڑے۔
وکیل کے مشورے پر میں نے یہ ادائیگی قسطوں میں کرنے کی درخواست دی تو جج نے اسے قبل ازوقت قرار دیا کہ ابھی کسی نے رقم کا دعوی نہیں کیا۔اگرچہ جج نے درخواست مسترد کردی تاہم اس نے آئی ایس آئی بریگیڈیئر کے وکلا کے 9ہزار پاؤنڈ کے دعوے پر 3ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دیا۔جج نے مشورہ دیا کہ قسطوں میں ادائیگی کیلئے میں مخالف وکلا سے رابطہ کروں مگر اب تک مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔عادل راجہ نے مہتاب انور عزیز اور ان کی لاء فرم پر غلط مشوروں کا الزام لگاتے ہوئے انہیں فارغ کر دیا۔اس کا کہنا ہے کہ وکلا کے غلط مشورے کی وجہ سے مجھے 13ہزار پاؤنڈ کا نقصان ہوا اس لئے میں نے وکلا کو فارغ کردیا ہے اور خود ہی عدالت میں پیش ہونگا۔عادل راجہ کا کہنا ہے کہ ریٹائر افسر کی لیگل ٹیم نے 28997520پاؤنڈ کا دعوی کیا ہے یہ میرے لئے پریشان کن ہے کیونکہ میں پہلے ہی درخواستیں مسترد ہونے کی وجہ سے 13ہزار پاؤنڈ جرمانہ بھگت رہا ہوں جس کی وجہ میرے وکلا کا غیرپیشہ ورانہ رویہ ہے جس پر میں ایس آر اے میں جارہا ہوں۔
عادل راجہ نے اپنے وکیل کو لندن ہائی کورٹ میں ایک درخواست مسترد ہونے پر بھی فارغ کیا ہے جس میں عدالت نے بریگیڈیئرراشد نصیر کی درخواست پر اسے جرمانہ بھی کیا ہے۔یو کے ہائی کورٹ نے عادل فاروق راجہ کی 10ہزار پاؤنڈ میں سے ماہانہ 35پاؤنڈ بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کو ادا کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔جج نے نہ صرف یہ درخواست مستردکی بلکہ بلامیرٹ درخواست دائر کرنے پر13ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ناقص قانونی مشورہ کی وجہ سے عادل راجہ کو ریٹائر فوجی افسر سے قانونی فیس کی اجازت بھی نہ مل سکی۔
Comments are closed.