شریعت کورٹ کے فیصلوں کیخلاف دائر اپیلیں سپریم کورٹ اپیلیٹ بنچ میں مقرر
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر شریعت اپیلٹ اپیلوں کی سماعت کے لیے بنائے گئے شریعت اپیلیٹ بنچ میں لگائے گئے مقدمات کی تفصیلات سامنے آگئیں، بینچ اتنے عرصے بعد کئی اہم ترین شریعت پٹیشن کی سماعت کرے گا یہ اپیلیں کئی سال پہلے دائر کی گئی تھی مگر بینچ کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سماعت نہیں ہو سکی تھی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے سربراہی میں شریعت اپیلٹ بینچ تشکیل دیا گیا ہے اورچیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں شریعت اپیلیٹ بنچ کی کاز لسٹ جاری کردی گئی ہے،
بنچ میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسییٰ، جسٹس نعیم اختر افغان جسٹس شاہد بلال حسن،ڈاکٹر خالد مسعود، ڈاکٹر قبلہ ایازشامل ہیں۔جس کے مطابق پانچ اگست سے لیکر آٹھ اگست تک پانچ رکنی لارجر شریعت اپیلیٹ بنچ 20 مقدمات سنے گا۔35سال پرانی شریعت اپیلیں بھی سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہیں۔ الیکٹورل نظام کے غیر اسلامی ہونے بارے 1989 کی ایک اپیل بھی سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے۔ان مقدما ت میں شریعت اپیل نمبر29/2019تاج محمدبنام سرکار،شوکت بنام سرکار2015،ملک تاج بنام سرکار 2016، شیر دل بنام سرکار2017،اور بیگم راشدہ پٹیل 1989اپیل کی سماعت شامل ہے۔فریقین کوسماعت کے لیے اطلاعاتی نوٹسزبھی جاری کیے جاچکے ہیں سماعت آج پیر کوہوگی باقی مقدمات کی بھی سماعت رواں ہفتے جاری رہے گی۔
Comments are closed.