مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی وزارت داخلہ کو منتقلی،سپریم کورٹ نے حکومت سے تفصیلات طلب کرلیں
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی وزارت داخلہ کو منتقلی پر حکومت سے جواب کے ساتھ ساتھ مارگلہ ہلز پر قائم ہاؤسنگ منصوبے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں،اٹارنی جنرل نے رعنا سعید کی برطرفی، نیشنل پارک منتقلی کا معاملہ وزیراعطم کے نوٹس میں لانے کی یقین دہانی کرا دی جبکہ کیس میں سماعت کے دوران سیکرٹری کابینہ کی جانب سے وزیراعظم کو صاحب کہنے پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کاظہارکرتے ہوئے کہاکہ غلامی کی زنجیریں توڑ دیں، وزیراعظم صاحب نہیں ہوتا،شہباز شریف صاحب کہیں تو سمجھ آتی ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روز دیے ہیں۔ سپریم کورٹ میں مارگلہ نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سیکرٹری کابینہ ، اٹارنی جنرل اور نجی ہوٹل کے مالک عدالت پیش ہوئے
،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اٹارنی جنرل آپ کو علم ہی نہیں کہ چیزیں کیسے ہورہی ہیں،دوران سماعت سیکرٹری کابینہ کی جانب سے وزیراعظم کو صاحب کہنے پر چیف جسٹس برہم ہو گئے چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ غلامی کی زنجیریں توڑ دیں، وزیراعظم صاحب نہیں ہوتا،شہبازشریف صاحب کہیں تو سمجھ آتی ہے،سیکرٹری کابینہ نے کہاکہ نیشنل پارک وزارت داخلہ کو دینے کی سمری میں نے نہیں بھیجی تھی،وزیراعظم نے خود حکم جاری کیا تھا جو مجھ تک پہنچا،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے وزیراعظم کو کہا نہیں کہ یہ رولز کیخلاف ہے۔سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی وزارت داخلہ کو منتقلی پر حکومت سے جواب مانگ لیا،سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز پر قائم ہاؤسنگ منصوبے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں،اٹارنی جنرل نے رعنا سعید کی برطرفی، نیشنل پارک منتقلی کا معاملہ وزیراعطم کے نوٹس میں لانے کی یقین دہانی کرا دی،اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر سپریم کورٹ نے سماعت 15اگست تک ملتوی کردی۔
Comments are closed.