قیمتی پتھروں کی روایتی طریقے سے کان کنی سے قیمتی اثاثہ ضائع کیا جارہا ہے ، وزیراعظم
اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قیمتی پتھروں کی روایتی طریقے سے کان کنی سے قیمتی اثاثہ ضائع کیا جارہا ہے ،قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی اجازت بالکل بھی نہیں دی جائے گی ،ایک ماہ میں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ جدید لائحہ عمل تشکیل کرکے اس کے نفاذ کیلئے اقدامات شروع کئے جائیں، گلگت بلتستان حکومت سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اس شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا،وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ نجکاری، عبدالعلیم خان کو شعبے کی اصلاحات کے نفاذ کی ذمہ داری سونپ دی. ۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم نے تجاویز پر عملدرآمد کی ذمہ داری وفاقی وزیرِ نجکاری کو سونپتے ہوئے ایک ہفتے میں گلگت بلتستان میں پائلٹ پراجیکٹ کے لائحہ عمل کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں. ان علاقوں میں کان کنی کیلئے روایتی طریقے اپنائے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے قیمتی پتھروں کا ذیاں ہو رہا ہے. خام مال ذیادہ تر اسمگل ہو کر دوسرے ممالک میں ویلیو ایڈیشن کے بعد پوری دنیا کو برآمد کیا جاتا ہے.
اجلاس کو بتایا گیا کہ وسیع مقدار میں ذخائر کے باوجود پاکستان سے قیمتی پتھروں کی برآمدات چند ملین ڈالر ہے. وزیرِ اعظم کو قیمتی پتھروں کی صنعت اور اس شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں. اجلاس کو گلگت بلتستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے ایک کلسٹر بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت قیمتی پتھروں کی کان کنی کے حوالے سے 178 بڑے لائیسنسز دیئے جا چکے ہیں جبکہ 18 قیمتی پتھروں کی اقسام پائی جاتی ہیں پاکستان کی قیمتی پتھروں کی برآمدات کا 80 فیصد حصہ خام مال پر مبنی ہے قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے قیمتی پتھروں کی جدید کان کنی، تراش خراش، پالشنگ اور ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے پاکستانی افرادی قوت کی پیشہ ورانہ تربیت کیلئے ایک جامع لائحہ عمل کے نفاذ کی بھی ہدایت کرتے ہوئے ملک میں قیمتی پتھروں (Gem Stones) کی صنعت کی ترقی اور انکی برآمدات میں اضافے کیلئے شعبے کی اصلاحات کا فیصلہ کیا اور کہا کہ قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور شعبے کی اصلاحات کی اسٹرینگ کمیٹی کی خود صدارت کرونگا وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی، تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن کی صنعت کا عالمی معیار سے ہم آہنگ پائلٹ پراجیکٹ شروع کرے گی اس حوالے سے وفاقی حکومت گلگت بلتستان حکومت کو مکمل مالی معاونت فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ 77 برس میں اس شعبے پر توجہ نہ دی گئی قیمتی پتھروں کی روایتی طریقے سے کان کنی سے قیمتی اثاثہ ضائع کیا جا رہا ہے ایک ماہ میں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ جدید لائحہ عمل تشکیل کرکے اس کے نفاذ کیلئے اقدامات شروع کئے جائیں قیمتی پتھروں کی صنعت اور اس شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے عملی اقدامات اور نتائج پیش کئے جائیں قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی اجازت بالکل بھی نہیں دی جائے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے پاکستان میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی سطح پر رائج سرٹیفیکیشنز کے حصول کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں ۔اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، خالد مقبول صدیقی، ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، گورنر اسٹیٹ بنک جمیل احمد وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
Comments are closed.