فیض حمید نے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا، محسن جمیل بیگ

اسلام آباد (آن لائن )معروف تجزیہ نگارو صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ جنرل فیض حمید کی مرضی کے بغیر ٹاپ سٹی کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوتا تھا،9مئی صرف عمران خان کی سوچ نہیں تھی بلکہ اس کے دیگر پارٹ بھی تھے ، جب آپ سکیورٹی اداروں اور فوج پر حملے کرتے ہیں تو ان کی فیملی اور ان کا کیریئر بھی متاثر ہوتا ہے ۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے محسن جمیل بیگ نے کہا کہ اگر آپ کسی انٹیلی جنس ادارے کے ہیڈ بنتے ہیں تو اپنے ذاتی تعلقات کو سائیڈ پر رکھ کر سارا فوکس ملک کے مفادات پر ہوتا ہے مگر فیض صاحب نے ایسا نہیں کیا اور انٹیلی جنس چیف بننے کے بعد اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کام کرنا شروع کردیااور جب ریٹائر ہوئے تو جتنے بھی تعلقات بنائے تھے وہ استعمال کرتے رہے اور جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الحسن بھی ان کے ساتھ مکمل رابطے میں تھے اور یہ سارے تعلقات انٹیلی جنس بیس پر ہی بنے تھے اور آئی ایس آئی کی بیس پر جو تعلقات بنے تھے وہ جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ساتھ لے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نو مئی کا جو واقعہ ہے اور بیگ گراؤنڈ پر جو فیض صاحب کی ہدایات تھیں اور فیض صاحب بشریٰ بی بی کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ تھے اور ان کو تمام انفارمیشن دیتے تھے

اسی طرح بشریٰ بی بی کا ہولڈ عمران خان پر بہت زیادہ تھا جو9 مئی صرف عمران خان کی سوچ نہیں بلکہ یہ اس سے پہلے دو سے تین پارٹ ہیں ایک انٹرنیشنل ہے جو چاہتے ہیں کہ پاکستان ملٹری کے لحاظ سے بہت مضبوط ہے اس لئے اس پر اٹیک کیا جائے اور ان کو فیض صاحب نے بتایا کہ آپ ایسا کرینگے تو ملٹری کمزور ہوگی ۔اسی طرح جب آپ سکیورٹی اداروں اور فوج پر حملے کرتے ہیں تو ان کی فیملی اور ان کا کیریئر بھی متاثر ہوتا ہے اگر یہ مکمل انکوائری ہوئی تو یہ بات سامنے آجائے گی کہ ان کا اہم مقصد ہی یہی تھا کہ لوگوں کو فوج کے خلاف کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہمدردیاں حاصل کرکے فوج کو بدنام کرنا ہے ۔محسن جمیل بیگ نے ٹاپ سٹی کے حوالے سے کہا کہ اس کا ایک کردار کرنل نعیم ٹاپ سٹی کے حوالے سے اہم کردار ہے اور جو بریگیڈئر غفار بھی اس میں ملوث تھے انہوں نے مل کر اس پر مکمل قبضہ کرنے کا پلان بنایا ۔محسن جمیل بیگ نے کہا کہ ابھی اس کی انکوائری چل رہی ہے مزید انکشافات سامنے آئینگے اور بہت سے کردار بے نقاب ہونے جارہے ہیں

Comments are closed.