مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کا مہنگائی ، بجلی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کل منگل سے ملک گیر احتجاج کا اعلان

اسلام آباد(آن لائن )مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے 29 اگست کو مہنگائی ، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کے خلاف کراچی سے خیبر تک ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی نے پاکستانی قوم اور تاجر برادری کو شدید ذہنی مریض بنا دیا ہے ، یوم احتجاج کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو 2ستمبر کو ملک گیر پہیہ جام شٹرڈاون کریں اور حکمرانوں کو مجبور کریں گے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کو فوری واپس لیں اور مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی قوم کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔عوام کی نگرانی کیلئے آنے والوں نے نگرانی کے بجائے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں۔عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنے کیلئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈر کے ساتھ مل بیٹھ کر عوامی پالیسیاں ترتیب دی جائیں ،جب تک ملک پرنام نہادمعیشت کے ارسطو مسلط کیے جاتے رہیں گے تب تک ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار رہے گی اور جب تک منتخب عوامی نمائندوں یا ماہر صنعت کار یا تاجر کو وزیر خزانہ نہیں لگایا جائے گا تب تک معیشت درست سمت پر گامزن نہیں ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر مرکزی تنظیم تاجران کے ترجمان ضیا ء احمد راجہ ،صدر مرکزی تنظیم تاجران راولپنڈی شرجیل میر ، صدر جی نائن مرکزراجہ جاوید، طاہر تاج بھٹی ، شیخ عبد السلیم ، افتخار شہزادہ ،شیخ عبد الوحید ،چوہدری جاوید اختر ،ملک شاہد ، خرم شکیل ،سردار ظہیر ،ملک رضوان،شیخ شبیر انصاری ،شیخ جاوید ،بابر چوہدری،علی ، شہباز قادری،جہانگیر عباسی ،چوہدری جمیل سمیت دیگر اہم تاجر رہنماء موجود تھے۔محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ مہنگائی نے عام عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے،آٹا ، چینی ،گھی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کے باعث عوام کا زندگی سے ناطہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے

اور پاکستانی قوم اور تاجر برادری شدید ذہبی دباؤ کا شکار ہیں ،پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کر دیا گیا ہے اور لوگ گھر میں اپنی بچیوں کی بالیاں تک بیچ کر بل ادا کررہے ہیں ،نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہیں ، لوگ اپنے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مجبور ہو گئے ہیں اوراپنے گردے فروخت کرنے کو تیار ہیں۔مہنگائی کا طوفان بجلی کے بلوں پر آکر شدید ہوگیا ہے اور عوام اپنے حق کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے اہلکار بجلی کے میٹر اتارنے جاتے ہیں تو تاجر اور عوام ان کی درگت بنا دیتے ہیں حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ پلوں کے نیچے سے پانی گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود اشرافیہ اور بیوروکریسی وی آئی پی کلچر کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہے ، ہزاروں لیٹر مفت پٹرول اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد اشرافیہ کی گاڑیاں اب بھی شاہراوں پر رواں دواں ہیں ،ایک لاکھ 80ہزار لوگوں کو مفت بجلی فراہم کی جا ری ہے ، 31کروڑ سے زائد بجلی کے مفت یونٹ دئیے جا رہے ہیں اور ساڑھے 5ارب روپے سے زائد سالانہ استعمال کی جانے والی مفت بجلی کی وصولی عوام سے کی جاتی ہے ،یہ مفت بجلی اور پٹرول کیوں دئیے جا رہے ہیں انہیں بند کیوں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کیلئے معیشت کے ارسطو کو قوم پر مسلط کیا گیا ، ڈار کو ڈالر کنٹرول کرنے کیلئے لایا گیا

لیکن اقتدار ختم ہونے کے بعد وہ اپنا بیگ اٹھا کر جہاں سے آیا وہی چلا گیا ،یہاں کبھی ڈار کو ،کبھی شوکت ترین ، کبھی حفیظ پاشا، کبھی حفیظ شیخ کو مسلط کیاگیا انہیں معیشت کا ارسطو کہا گیا لیکن یہ معیشت کو بیچ منجدار چھوڑ کر بھاگ گے اور اب صورتحال یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے۔بجلی کی بلوں میں اضافہ کی وجہ سے ایک کروڑ چھوٹا تاجر اپنی دکانوں کے بل ادا نہیں کر پا رہا ، چھوٹے صنعت کار اپنے کاروبا ر قائم نہیں رکھ پا رہے اور نوبت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ لوگ اپنے کنبوں کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے ہیں۔خدا نخواستہ لوگ سول نافرمانی کی طرف چلے جائیں گے تو کنٹرول مشکل ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ نگرانی کرنے کیلئے جو نگران اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں انہوں نے ملک میں عام انتخابات کرانے ہیں لیکن انہیں مینڈیٹ دیدیا گیا کہ عالمی مالیاتی اداروں سے معاہدے کریں انہیں مہنگائی کے سلسلے کو بند کرنا چاہئیے لیکن انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور اس وقت بجلی کے بلوں میں 13قسم کے ٹیکسز لگائے گئے ہیں اور اس میں عجیب عجیب ڈرامے لگائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے تلوار بھی عام عوام پر اٹھتی ہے اور یہ مافیا اور اشرافیہ سے ٹیکس وصول نہیں کرتا اور عام آدمی پر اس کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک گیر مشاورت کے بعد 29اگست بروز منگل کو کراچی سے خیبر تک پورے ملک میں یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس احتجاج کے بعد بھی اگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو ہم تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں بشمول سول سوسائٹی ، ٹرانسپورٹر، وکلاء ، کسان ، طلباء ، صحافیو ں کو اعتماد میں لیتے ہوئے دو ستمبر کو کراچی سے خیبر تک ملک گیر پہیہ جام شٹر ڈاؤن کریں گے اور قوم سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت ملکی صورتحال ایسی ہو چکی ہے کہ ملک میں کوئی لیڈر شپ موجود نہیں ہے

اور جو موجود ہیں وہ اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف عمل ہیں ایسے میں قوم ہمارا ساتھ دے تاکہ ان ظالموں کو مجبور کیا جا سکے کہ بجلی کے بلوں میں اضافہ کو فوری واپس لیں ،انہوں نے کہا کہ 29اگست کو پوری قوم تاجروں کے شانہ بشانہ سڑکوں پر نکلے اور اپنے حق کیلئے آواز بلند کریں اور یہ ثابت کریں کہ ہم زندہ قوم ہیں ہم لاشیں نہیں ہیں ،ہم خود کشیاں نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 29اگست کا احتجاج اور دو ستمبر کو پہیہ جام پر امن ہوگا اور کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا یہ ملک بھی ہمارا ہے اور سرکاری و نجی املاک بھی ہماری ہیں۔انہوں نے واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے اہلکاروں کو کسی گھر یا دوکان کے میٹر کاٹنے کیلئے نہ بھجوائے کیونکہ عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے یہ نہ ہو کہ لوگ مشتعل ہو جائیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنائیں پھر بھی اگر ایسا کیا گیا تو حالات کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے ایک تاجر رہنماء کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ہم جیلوں میں جانے کو تیار ہیں اور جیلیں بھرنے کو بھی تیار ہیں ،پورے ملک کے تاجر اپنے حق کیلئے مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں ، انہوں نے کہا کہ قوم کی حالت پر رحم کیا جائے ، قوم روٹی کیلئے ترس رہی ہے

لیکن اشرافیہ خواب خرگوش میں مگن ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کیلئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو سامنے آنا چاہئے اور تمام اسٹیک ہولڈر کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک پر معیشت کے نام نہاد ارسطو مسلط کیے گئے ڈار کو ڈالر کنٹرول کرنے کیلئے لایا گیا لیکن وہ ملک سے بھاگ گیا ہے۔ انہوں نے کہا جب تک منتخب عوامی نمائندے یا کسی تاجر یا صنعت کار کو وزیر خزانہ نہیں بنایا جاتا تب تک معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی ، معیشت کی درستگی کیلئے برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو کم کرنا ہوا ہم نے معیشت کی بہتری کیلئے چھ سیکٹر پر توجہ دینے کیلئے سابق حکومتوں کو تفصیلی منصوبے دئیے اور اب نگران حکومت کو بھی دینے کو تیار ہیں تاکہ ان پر عمل درآمد کرکے معیشت کو بہتر بنایا جا سکے۔

Comments are closed.