9مئی مقدمات،وعدہ معاف گواہ سابق ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی اور سابق ایم پی اے عمر تنویر بٹ بیان سے منحرف ہوگئے
راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1 کے جج ملک اعجاز آصف نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 498 ملزمان کے خلاف جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں، اہم تنصیبات، نجی و سرکاری املاک کے گھیراؤ جلاؤ اور پولیس افسران و اہلکاروں پر حملوں کے 12 الگ الگ مقدمات کی سماعت کسی کاروائی کے بغیر 12 ستمبر تک ملتوی کردی ہے تاہم ان مقدمات کے مبینہ وعدہ معاف گواہ و پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی اور سابق رکن پنجاب اسمبلی عمر تنویر بٹ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے جنہوں نے ضابطہ فوجداری کی سیکشن 164 کے تحت بیان سے لاعلمی و لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ 9 مئی کے مقدمات کے حوالے سے ہمارے نام سے منسوب 164 کا بیان جعلی ہے اور اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں مقدمات کی سماعت کے موقع پر سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان، اعظم سواتی، واثق قیوم عباسی اور عمر تنویر بٹ سمیت دیگر ملزمان موجود تھے اس موقع پر واثق قیوم عباسی اور عمر تنویر بٹ نے انسداد عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ہم نے سابق چیئرمین کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر کوئی ایسا بیان کسی مجسٹریٹ کے سامنے زبانی یا تحریری طور پر نہیں دیا سابق چیئرمین نے ہمیشہ ہمیں پرامن جدوجہد کا درس دیا ان کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات سے متعلق ہمارے بیانات کی کوئی حقیقت نہیں ‘محمد فیصل ملک کے ذریعے دائر درخواست کو عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
یادرہے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد راولپنڈی پولیس نے تھانہ آر اے بازار میں مقدمہ نمبر 708، تھانہ سٹی میں مقدمہ نمبر 563،تھانہ کینٹ میں مقدمہ نمبر 836، تھانہ ریس کورس میں 759، تھانہ نیو ٹاؤن میں مقدمہ نمبر 2106، تھانہ صادق آباد میں مقدمہ نمبر 2076، تھانہ سول لائن میں مقدمہ نمبر 981، تھانہ وارث خان میں مقدمہ نمبر 914، تھانہ مورگاہ میں مقدمہ نمبر 397، تھانہ صدر واہ میں مقدمہ نمبر 744 اور تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ نمبر 940 درج کیا تھا ان مقدمات میں سابق چیئرمین کو 8 جنوری کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا واضح رہے کہ ان مقدمات میں عدالت پہلے ہی سابق چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا نام خارج کرنے کا حکم دے چکی ہے دریں اثنا سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک نے دیگر وکلا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج وکلا کو اڈیالہ جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر وکلا نے عدالت کو سماعت کے بعد بتایا کہ ہمیں جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی لہذا عدالت جیل انتظامیہ کے رویے پر تفصیلی آرڈر جاری کرے گی انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے مقدمات میں اہم پیش رفت یہ ہے دو ملزمان اعترافی بیان سے منحرف ہوگئے ہیں واثق قیوم عباسی اور عمر تنویر بٹ نے 164کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے مذکورہ دونوں ملزمان خوف و ہراس کی وجہ سے آج تک خاموش تھے اب دونوں ملزمان کے اعترافی بیانات سے انحراف کے بعد سابق چیئرمین کے کیسوں پر بھی فرق پڑے گا
Comments are closed.