الیکشن سے قبل مقبوضہ کشمیرم یں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع
سرینگر (آن لائن)مقبوضہ جموں وکشمیر میں الیکشن سے قبل بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دی گئیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام پچھلی سات دہائیوں سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کا شکار ہے ،5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مودی حکومت نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی عوام کو کسی بھی قسم کا جمہوری حق دینے کو تیا ر نہیں ،بھارت ایک دفعہ پھر 18ستمبر 2024 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کے مستقبل کا فیصلہ نام نہاد الیکشن کے ذریعے کرنے کے لئے تیارہوگیا ہے
،مقبوضہ وادی میں ہونے والے الیکشن ہمیشہ بھارت کی مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی اور دھاندلی کی بھینٹ چڑھے ہیں، الیکشن سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماوٴں اور کارکنوں کی بھاری پیمانے پر گرفتاریاں دیکھنے میں آرہی ہیں،رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کو اْن کے حقیقی رہنماوٴں سے محروم کر نا چاہتی ہے، ودی سرکار کشمیریوں کے حقیقی سیاسی رہنماوٴں کو مجیلوں میں بند کر کے 18 ستمبر کو آنے والے الیکشن کا ڈرامہ رچانے جا رہی ہے ،مقبوضہ وادی میں الیکشن سے قبل گرفتاریوں کا مقصد انتخابی حلقوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور غیریقینی صورتِ حال پیدا کرنا ہے ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے ہر الیکشن کے بعد بھارت کے اندر سے ہی سیاسی حریفوں اور تجزیہ کاروں نے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اْٹھائے
، مودی سرکار ہر صورت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے جس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے ،1951سے لیکر 2019 تک بھارت نے مقبوضہ وادی میں جتنے بھی نام نہاد الیکشن کروائے وہ تمام سیاسی اور عسکری مینجمنٹ کے ذریعے کروائے گئے ،الیکشن سے قبل سیاسی حریفوں کو جھوٹے مقدمات اور الزامات میں گرفتار کرنا مودی سرکار کا پْرانا وطیرہ رہا ہے، آخر کب تک بھارت طاقت کے زور پر کشمیریوں کو اْن کے آزادء حقِ رائے دہی سے محروم کرتا رہے گا ؟
Comments are closed.