ابھی تو عشق کے امتحان اور بھی ہیں،ملٹری کورٹ میں بھی ہے،حنیف عباسی

اسلام آبا د(آن لائن)رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے کہا کہ فوج نے ان کے گھر کو عزت دی لیکن فوج سے اتنی نفرت ہے ،پوری تقریر میں ویگو ڈالا اور انٹیلی جنس اداروں کو کے جی بی کہنا ہمارے نوجوانوں نے ملک کیلئے قربانیاں دیں،جنگ جیتے بغیر فیلڈ مارشل کا نام استعمال کیا ،ہم سمجھے پچاس لاکھ گھر ڈیڑھ کروڑ نوکریوں کی بات کریں گے ،امریکہ اور اسرائیل سے آنے والی فنڈنگ شاید اس لیے ہے کہ اداروں کے پیچھے لگ جائیں،اس میدان میں آتے ہیں تو مضبوط پاوٴں کے ساتھ کرتے ہیں

،ابھی تو عشق کے امتحان اور بھی ہیں ملٹری کورٹ بھی ہے ،آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ تیار ہیں آپ اپنے بچنے کی تدبیر کریں،ابھی بھی موقع ہے معافی مانگ لیں ،وزیر اعظم کو چھوڑیں آپ کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوں،صادق اور امین کہنے والے ججز ختم ہوگئے ہیں ،صادق اور امین کہنے والے جو جو ججز رہ گئے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے ۔دریں اثناء اپوزیشن لیڈر نے حنیف عباسی کی تقریر کے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ پر ان کے ورکز نے حملہ کیا،چیف جسٹس کو ہتھکڑیاں لگانے کا پروگرام بھی نواز شریف نے بنایا تھا ،خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اس فوج نے ملک کا خون نچوڑ لیا ،کے جی بی کا نام اس لیے لیا کہ نام لیتا ہوں تو وہ سنسر ہوجاتا ہے ،میرے لیڈر نے کہا کہ فوج بھی میری ہے قوم بھی میری ہے،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ میں آپ کو وثوق سے کہہ سکتا ہوں میری تقریر کو نہیں چلایا جارہا،یہاں پر وزیر تقریر کرتا ہے تو اس کو دکھایا جاتا ہے،ہم منسٹر آف کے ڈیفنس کے اخراجات کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ اس کو بلیک آوٴٹ کردیتے ہیں،لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی بات نہیں کرسکتا ،بلوچستان میں فیکٹ فائنڈنگ مشن جائے اور حالات دیکھے،بلوچستان حکومت کے وزراء لوگوں سے بات نہیں کرسکتے،بلوچستان کے نوجوان کی ان بات نہیں سننا چاہتے ،ماہ رنگ بلوچ لاکھوں لوگوں کے جلسے کررہی ہے ،ماہ رنگ بلوچ کو بھی یہاں پر دکھایا نہیں جاتا،خیبرپختونخوا میں کالا ویگو ڈالا بغیر نمبر پلیٹ کے پشاور میں گیا،ان کو پکڑا گیا تو پنجاب سی ٹی ڈی کے کارڈز ان سے ملے

،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے،انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائیں اور بلوچستان میں لوگوں سے بات چیت کریں ،ان کے وسائل پر ان کا حق ہے ان سے بات کریں،وفاقی حکومت ان سے بات نہیں کرنا چاہتی،بات نہیں کریں گے تو وفاق کیسے چکے گا ،المیہ یہ ہے کہ ڈکٹیشن کہیں اور سے لیتے ہیں،وزیر اعظم، پیپلز پارٹی ایم کیو ایم خدارا ہوش کے ناخن لیں ،سردار اختر مینگل کے استعفے کو خدارا ہلکا نہ لیں ،وہ ہم سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں ،ہمارا ایک ساتھی ایف ٹین سے اٹھایا گیا،بانی چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں،قومی اسمبلی اجلاس میں شرمیلا فاروقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منکی پاکس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے،دو روز قبل پشاور میں پانچواں کیس سامنے آیا ہے ،یہ وائرس باہر سے آرہا ہے ہمیں ٹریٹمنٹ کا پتہ نہیں ہے ،یہاں پر جواب دینے کیلئے کوئی نہیں ہے،متعلقہ وزیر یہاں پر کیوں نہیں ہے

Comments are closed.