منی پورمیں پھر سے فسادات پھوٹ پڑے،نواحی گاوٴں میں 5گھروں کو جلا کر خاکستر کردیا گیا
منی پور (آن لائن)منی پورمیں پھر سے فسادات پھوٹ پڑے، دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ہمیشہ انتہا پسندی کی سیاست کی ہے اور فسطائیت کو فروغ دیا ہے ، مودی سرکار نے اپنے تیسرے دور میں بھارت کو نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات کی آماج گاہ بنادیا ، سیاسی حریف ہوں یا بھارت میں بسنے والی اقلیتیں، سب ہی مودی سرکار کی انتہاپسندانہ سوچ کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، بھارت میں اس وقت ریاستی سطح پر بہت سے طبقات بنیادی حقو ق سے محروم ہیں جن کی وجہ سے ملک میں متعدد اعلیحدگی پسند تحریکیں سرگرم ہیں ۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق منی پور کے نواحی گاوٴں میں 5گھروں کو جلا کر خاکستر کردیا گیا جس کے بعد امفال وادی میں شدت پسندی کے نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے ، میٹی اور ک کی کمیونٹیز کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لڑوایا جارہاہے اور ریاست اپنے مفادات کے پیشِ نظر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، مودی سرکار نے جان بوجھ کر منی پور کی حالات کو خراب کیا تاکہ اپنے مذموم سیاسی مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاسکے، منی پور کے لوگ اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں ، حالیہ فسادات کے بعدامفال وادی اور گردونواح میں دوبارہ کرفیونافذ کردیا گیا ہے، گزشتہ سال سے اب تک کے دوران منی پور میں سینکڑوں بے گناہوں کی جانیں گئی ہیں ، بھارتی میڈیا کے مطابق ریاستی پولیس نے بھارتی افواج کے ساتھ مل کر منی پور میں کومبنگ آپریشن شروع کردئیے ہیں
، بھاری پیمانے پر سرچ آپریشن ہونے کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، نسلی فسادات کو ہوادے کر میٹی کمیونٹی کو ک کی اور دوسروں قبیلوں سے لڑوایاجارہاہے تا کہ ان کے آئینی حقوق کو پامال کیا جائے، منی پور کا مسئلہ مزید زور پکڑ رہاہے اور مودی سرکار سیاسی مسئلے کو بندوق کے زور پہ حل کرنا چاہتی ہے ، منی پور کا مسئلہ مودی کے لئے گلے کی ہڈی ثابت ہوا ہے اور مقامی لوگ اب بھارت سے آزادی کا تقاضہ کر رہے ہیں ، عالمی سطح پر بھی منی پور فسادات کو لیکر ایک گہری تشویش پائی جا رہی ہے، آخر کب تک مودی سرکار اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ظلم و بربریت کا سہارا لیتی رہے گی؟۔
Comments are closed.