وفاقی حکومت نے ڈیمز فنڈز میں جمع کی گئی رقوم مانگ لی

اسلام آباد ( آن لائن) سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت تین ہفتوں تک کیلئے ملتوی کردی۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہاہے کہ وفاقی حکومت اور واپڈا کی جانب سے مشترکہ متفرق درخواست دائر کی گئی، متفرق درخواست میں سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز میں جمع ہوئی رقم واپڈا کے آفیشل اکاوٴنٹ نیشنل بنک میں منتقل کرنے کی استدعا کی گئی، وفاقی حکومت اور واپڈا نے یقین دلایا ڈیمز فنڈز کی رقم خالصتا ڈیمز کی تعمیر کیلئے استعمال ہوگی، اسٹیٹ بنک مکمل بریک ڈاوٴن کیساتھ تفصیل بتائے ڈیمز فنڈز میں کتنی رقم ہے، یہ مناسب ہے سابقہ اٹارنی جنرلز خالد جاوید خان اور انور منصور خان کو معاونت کیلئے طلب کیا جائے، ڈیمز فنڈز کیس کے عدالتی معاون مخدوم علی خان بھی معاونت کیلئے آئندہ سماعت پر پیش ہوں،واپڈا کی طرف سے جمع کرائی گئی عمل درآمد رپورٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بناتے ہیں،مالیاتی معاملے ہونے کے سبب آڈیٹر جنرل خود یا اپنے منتخب نمائندے کے زریعے عدالت کی معاونت کریں،عدالتی نوٹسز کی کاپیاں اٹارنی جنرلز اور عدالتی معاون کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ڈیمز فنڈز کی رقم سپریم کورٹ کے اکاوٴنٹ میں رکھنی ہے یا نہیں، کیس میں طے کریں گے

، ہم تو ڈیمز نہیں بنا سکتے، عمل درآمد بنچ کا اختیار آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے، سپریم کورٹ کو اپنے حکم پر عملدرآمد کرانے کا اختیار نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے چار رکنی بنچ کے سامنے کیس مقرر کرنے کی منظوری دی تھی، ہم نظرثانی نہیں کر رہیاگر ضروری سمجھا تو پانچ رکنی بنچ بھی بنا سکتے ہیں،جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے ہیں کہ پہلے یہ کیس پانچ رکنی بنچ سن چکا ہے، ہمارا بنچ چار رکنی ہے، انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کیروزدیے ہیں۔سماعت شروع ہوئی تواس دوران وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ڈیمز فنڈ میں جمع ہونے والی رقم مانگ لی۔دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز سیمتعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ ہم نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے، ڈیمز فنڈز کے پیسے وفاق اور واپڈا کو دیے جائیں، سپریم کورٹ کی نگرانی میں اسٹیٹ بینک نے اکاوٴنٹ کھولا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا ڈیمز فنڈز میں کتنے پیسے ہیں، جس پر وکیل واپڈا سعد رسول نے بتایا کہ تقریباً 20 ارب روپے ڈیمز فنڈز میں موجود ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا یہ کیس شروع کیسے ہوا؟ جس پر وکیل سعد رسول نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے واپڈا کے زیر سماعت مقدمات کے دوران 2018 میں ازخود نوٹس لیا تھا، سپریم کورٹ کے ڈیمز فنڈز عمل درآمد بینچ نے 17 سماعتیں کیں۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا واپڈا کے اور بھی کئی منصوبے ہوں گے، کیا سپریم کورٹ واپڈا کے ہر منصوبے کی نگرانی کرتی ہے؟واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز کی تعمیر کے معاملے پر پرائیویٹ فریقین کے درمیان بھی تنازعات تھے،

سپریم کورٹ نے پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتوں کی بجائے اپنے پاس سماعت کے لیے مقرر کیے، ہماری استدعا ہے پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتی فورمز پر ہی چلائے جانے چاہیں۔سپریم کورٹ نے کیس کا متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا۔وقفے کے بعد عدالت میں رہنارڈہیش کیاگیاجسے عدالت سے سماعت کا حصہ بنادیااوردرج بالا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ا?ف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاوٴنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیمز کی اپنی نگرانی میں تعمیر کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔

Comments are closed.