تحریک انصاف ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججز کی جانب سے الیکشن کمیشن کی متفرق درخواست پر فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے وضاحت جاری کی گئی ہے
اسلام آباد(آن لائن)تحریک انصاف ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججز کی جانب سے الیکشن کمیشن کی متفرق درخواست پر فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے وضاحت جاری کی گئی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ ہے۔الیکشن کمیشن وضاحت درخواست عدالتی فیصلہ پر پر عمل در آمد کے راستہ میں رکاوٹ ہے۔الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست درست نہیں۔
الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا۔الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا۔الیکشن کمیشن کی تسلیم شدہ پوزیشن ہے کہ تحریک انصاف رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے ۔اقلیتی ججز نے بھی تحریک انصاف کی قانون پوزیشن کو تسلیم کیا۔عدالتی فیصلہ پر عمل کے تاخیر کے نتائج ہو سکتے ہیں۔سرٹیفیکیٹس جمع کرانے والے تحریک انصاف کے ارکان ہے ۔الیکشن کمیشن 41 ارکان سے متعلق وضاحت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔الیکشن کمیشن درخواست کنفیوڑن پیدا کرنے کی کوشش ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی ہے۔سپریم کورٹ کا 12 جولائی کو فیصلہ واضع ہے۔
Comments are closed.